وائٹ ہاوس کا کرپٹ ترین مکین
امریکہ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ پارٹی کے درمیان اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ان دنوں دونوں جماعتوں کی سیاسی شخصیات کے درمیان نوک جھونک کا سلسلہ امریکہ کی سرحدوں سے عبور کر چکا ہے۔ ریپبلکنز پر ڈیموکریٹس کا تازہ ترین حملہ امریکہ سے باہر انجام پایا ہے اور یہ حملہ اس بار جرمنی میں میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے موقع پر ایسے شخص کی طرف سے کیا گیا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 2028ء کے صدارتی الیکشن میں ممکنہ امیدوار ہو گا۔ ریاست کیلی فورنیا کے گورنر نے ڈیوس اجلاس میں شرکت کی اور سوئٹزرلینڈ میں ٹرمپ پر اپنے حملے کے چند ہفتوں بعد ریپبلکنز کو میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پریشان نہ ہوں کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت عارضی ہے اور وہ 3 سال میں وائٹ ہاؤس چھوڑ دیں گے۔ 2028ء میں امریکی صدر کے لیے ممکنہ ڈیموکریٹک امیدوار، گیون نیوسام نے واضح طور پر امریکہ کو عدم استحکام کا سرچشمہ قرار دیتے ہوئے کہا: "اس وقت، بدقسمتی سے امریکہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اپنی زندگی میں ایسی بات کہوں گا لیکن کہنے پر مجبور ہوں: اگرچہ امریکہ مرا نہیں ہے لیکن نیند کی حالت میں ہے، شاید ضروری ہو کہ آپ احتیاط سے کام لیتے ہوئے ایک آنکھ کھول کر سوئیں۔”
انہوں نے ٹرمپ کے بارے میں کہا کہ وہ تاریخی طور پر غیر مقبول ہیں اور وسط مدتی انتخابات میں انہیں عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑے گا، بہت ہی بھاری شکست۔ نیوسام کے مطابق ٹرمپ جلد ہی انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت ٹیرف لگانے کے لیے اپنا اختیار کھو دیں گے، ایک ایسا اختیار جس کے تحت انہوں نے بہت سے غیر قانونی کام کیے ہیں اور جو امریکی تاریخ کے سب سے کرپٹ صدر کے براہ راست لین دین کا ذریعہ بھی رہا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ اور ان کے خاندان کی بدعنوانی کے بارے میں کہا: "ٹرمپ کے متعدد خارجہ پالیسی دوروں میں کیا چیز مشترک ہے؟ مشترک بات یہ ہے کہ ان کے خاندان کے افراد ان دوروں میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور ان دوروں میں وہ ٹاورز، گالف کورسز، سرمایہ کاری اور کرپٹو کرنسیوں کے سودے طے کرتے ہیں اور درحقیقت نہ صرف خود ٹرمپ بلکہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ غیر ملکی دوروں کے سودے کر رہے ہیں۔” نیوسام نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ کی بدعنوانی کے حوالے سے اصل مسئلہ صرف 400 ملین ڈالر کا قطری طیارہ بطور تحفہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ ٹرمپ کے اپنے خاندان کے غیر ملکی دوروں پر ذاتی منافع خوری کا ہے۔
دو دیگر ممتاز ڈیموکریٹ رہنما، نیویارک کے الیگزینڈریا اوکاسیو کارٹز اور مشیگن کے ڈیموکریٹک گورنر، گرٹچین ویٹمر بھی میونخ سیکورٹی کانفرنس میں موجود تھے اور وہاں موجود صحافیوں نے اس کانفرنس میں اتنے زیادہ امریکی گورنروں کی موجودگی سے یہ اندازہ لگایا ہے کہ ڈیموکریٹس نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز امریکہ کے اندر کی بجائے جرمنی کے شہر میونخ سے کر دیا ہے۔ یو ایس نیوز نے بھی اپنی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ نیوسام کی جانب سے ٹرمپ پر حملے صرف امریکی صدر کی بدعنوانی تک ہی محدود نہیں تھے بلکہ انہوں نے اعلان کیا کہ "امریکہ کی تاریخ میں ٹرمپ سے زیادہ کرہ ارض کے لیے تباہ کن صدر کبھی برسراقتدار نہیں آیا۔” ٹرمپ کے خلاف کیلی فورنیا کے گورنر کے زبانی حملوں کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان اندرونی تقسیم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے جبکہ یو ایس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ وائٹ ہاؤس نے نیوسام کے تبصروں پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔
سینٹر فار اکنامک اینڈ پولیٹیکل ریسرچ (cepr.net) سمیت کئی امریکی ذرائع نے اپنی رپورٹس میں سابقہ صدور کی بدعنوانی پر روشنی ڈالی ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بدعنوانی ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے۔ واشنگٹن میں قائم تحقیقی مرکز نے اپنی رپورٹ میں لکھا: "ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اسکینڈل اور بدعنوانی کو ایک عام عمل بنانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ یہ خبر کے قابل بھی نہ رہے۔ ان کی بدعنوانی ہمیشہ صاف نظر آتی ہے اور وہ اس کی تردید کرنے کے بجائے ہمیشہ کہتے ہیں: تو کیا ہوا؟۔” اس تھنک ٹینک کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں رہتے ہوئے اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کی اور کرپٹو کرنسی کی فروخت سے تیزی سے اربوں ڈالر کمائے۔ مثال کے طور پر ٹرمپ انتظامیہ کی بدعنوانی کی سب سے نمایاں علامت ابوظہبی کی حکومت کے ساتھ اس کی ملی بھگت تھی جس میں متحدہ عرب امارات نے ٹرمپ کے سٹیبل کوائنز میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کے بعد جدید کمپیوٹر چپس حاصل کیں۔ امریکی نیوز چینل سی این این کی ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ خاندان کی کرپٹو کرنسی میں گزشتہ سال (2025) کی سرمایہ کاری سے خاندان کی خالص آمدنی میں 1 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔
سینٹر فار اکنامک اینڈ پولیٹیکل ریسرچ نے اپنی رپورٹ میں ٹرمپ کی بدعنوانی کو دو زمروں میں تقسیم کیا: ذاتی بدعنوانی اور انتظامی بدعنوانی، اور رپورٹ میں کہا کہ ٹرمپ کی اصل بدعنوانی اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب وہ انتظامی امور کے ذریعے بدعنوانی کو ادارہ جاتی شکل دیتے ہیں۔ اس بدعنوانی کی ایک مثال 1 لاکھ ڈالر میں ایک قسم کا امریکی ویزا جاری کرنے کا مجوزہ منصوبہ ہے۔ ایک ایسی تجویز جس کی تفصیلات مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ اگلے 3 سالوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے خاتمے کے بعد اس کی تجدید کی جائے گی یا نہیں؟ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ٹرمپ اس قسم کا ویزہ جاری کر کے مختلف کمپنیوں سے غیر ملکی ماہر کارکن بھرتی کرنے کی بابت بڑی رقم وصول کرنا چاہتا ہے جبکہ اپنے پسندیدہ شعبوں کو اس ادائیگی سے مستثنی قرار دینا چاہتا ہے۔ لہذا ویزا جاری کرنے کا یہ طریقہ ٹرمپ کے لیے آمدنی کا ایک بڑا ممکنہ ذریعہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پس پردہ اپنی پسند کی فیس جمع کرنے والے افراد یا کمپنیوں کے مطالبے پر اس قسم کا ویزا جاری کر سکتا ہے۔
