’دھاندلی کی تحقیقات تک نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں‘، امریکی قانون سازوں کا بائیڈن سے مطالبہ

01091142a9a7af3.jpg

امریکی قانون سازوں نے صدر جوبائیڈن اور وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان میں انتخابی دھاندلی کی تحقیقات تک ملک کی نئی حکومت کو تسلیم نہ کریں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے  کے مطابق امریکی کانگریس مین گریگ کیسر کی سربراہی میں اور امریکی ایوان نمائندگان کے 31 ڈیموکریٹک ارکان نے مشترکہ طور پر لکھے ایک خط پر دستخط کیے

دستخط کرنے والوں میں نمائندے پرمیلا جے پال، راشدہ طلیب، رو کھنہ، جیمی راسکن، الہان ​​عمر، کوری بش اور باربرا لی شامل تھے۔خط میں 8 فروری کے عام انتخابات سے قبل اور بعد میں دھاندلی کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔انہوں نے انتخابات کے دن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے نئی پاکستانی حکومت کو تسلیم کرنے سے پہلے شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی کانگریس کے ممبران نے جوبائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’نئی حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہ کریں جب تک کہ تحقیقات سے یہ ثابت نہ ہو جائے کہ انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی‘خط میں جوبائیڈن سے کہا گیا ہے کہ وہ ’پاکستانی حکام پر زور دیں کہ وہ ان تمام لوگوں کو رہا کریں جنہیں سیاسی تقریر یا سرگرمی میں ملوث ہونے پر حراست میں لیا گیا ہو۔‘انہوں نے جامع تحقیقات اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے