’آئی ایم ایف سے معاہدہ سب سے بڑا چیلنج‘، نئی حکومت کو کن مسائل کا سامنا ہوگا؟

1977406-2003397725.jpeg

پاکستان مسلم لیگ نواز نے پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر اگلی حکومت قائم کرنے اور شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔اس اعلان کے بعد اب یہ بات طے پا گئی ہے کہ گزشتہ سال اگست میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی حکومت ختم ہونے کے چھ ماہ بعد مسلم لیگ نواز ایک مرتبہ پھر وفاق میں حکومتی اتحاد کی سربراہی کرے گی۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف بھی تاحال وزارت عظمٰی کی دوڑ سے دستبردار نہیں ہوئی اور اس عزم کا اظہار کر رہی ہے کہ مختلف حلقوں میں دھاندلی ثابت کر کے اسمبلی میں اپنے اراکین کا اضافہ کریں گے اور اکثریت حاصل کر کے اپنی حکومت بنائیں گے۔قومی اسمبلی کے وجود میں آنے کے بعد جو بھی حکومت سنبھالے گا اس کے لیے مستقبل کی راہ گلزار نہیں بلکہ پرخار ہو گی۔

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ

سب سے پہلا مسئلہ جو نئی حکومت کو درپیش ہو گا وہ بین الااقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کرنا ہے۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے معاہدے کی مدت اپریل میں ختم ہو جائے گی۔
جولائی 2023 میں نو ماہ کے لیے کیے گیے اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تین ارب ڈالر فراہم کیے گئے تھے جس کی وجہ سے معیشت کو کچھ سہارا ملا تھا، تاہم نئی حکومت کو ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ہی اگلے بجٹ کی تیاری اور ملک میں معاشی توازن برقرار رکھنے کے لیے مزید رقم کی ضرورت ہو گی۔ اور استحکام کے لیے اس کو آئی ایم ایف سے معاہدہ کرنا پڑے گا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر رضا باقر کے مطابق پاکستان کا موجودہ زر مبادلہ آٹھ ارب ڈالر کے قریب ہے جبکہ اس کو اگلے پانچ سالوں میں سات ارب ڈالر محض بیرونی قرضوں کی مد میں ادا کرنے ہیں۔ ملک کے دیگر اخراجات اور معیشت کی بڑھوتری کے لیے درکار سرمایہ اس سے الگ ہو گا۔اس لیے پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے ایک وسیع معاہدہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

لیکن پیچیدہ بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو قرض دینے کے لیے اب پہلے سے زیادہ سخت شرائط عائد کر سکتا ہے، جن میں ٹیکسوں میں مزید اضافہ اور سخت معاشی اصلاحات شامل ہیں۔معاشی تجزیہ کار شہباز رانا کے مطابق آنے والی حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں تاخیر کی گنجائش نہیں ہے، اور سب سے پہلا اور بڑا چیلنج یہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو جون سے پہلے ہر صورت میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنا پڑے گا کیونکہ اس کے بغیر بجٹ کی تیاری ممکن نہیں ہو گی۔
تاہم یہ معاہدہ کرنے میں کتنی مشکلات آئیں گی اس کے بارے میں شہباز رانا کے مطابق ابھی واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس کا اندازہ تب ہی ہو گا جب حکومت قرضے کے پروگرام کے لیے درخواست دے گی اور آئی ایم ایف اس کا جواب دے گا۔ان کے مطابق ’ممکنہ طور پر ٹیکس اصلاحات اور قرضوں کی ری سٹرکچرنگ ایسے معاملات ہو سکتے ہیں جن پر آئی ایم ایف سے مذاکرات ہوں اور طول بھی پکڑ جائیں۔

بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری

اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بڑھتی ہوئی مہنگائی، جس میں آئی ایم ایف سے معاہدہ ہونے یا نہ ہونے دونوں صورتوں میں اضافے کا امکان ہے، کو قابو کرنے اور بے روزگاری میں کمی لانے جیسے مسائل بھی درپیش ہوں گے۔لیکن ماہرین کے مطابق نئی حکومت کے پاس نہ تو مہنگائی پر فوری قابو پانے کا کوئی طریقہ ہے اور نہ ہی بے روزگاری کم کرنے کا۔

قائداعظم یونیورسٹی کے پولیٹیکل سائنس اور بین الااقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر فرحان صدیقی کے مطابق ان دونوں مسائل کا تعلق استحکام سے ہے اور بظاہر لگتا نہیں ہے کہ نئی حکومت فوری طور پر ملک میں استحکام لا سکے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو فوری طور پر معیشت کو سنبھالنا پڑے گا۔ اگر معیشت نہ سنبھلی تو مہنگائی کم ہو گی نہ بے روزگاری اور نہ ہی سیاسی استحکام آئے گا۔ قیاس جو پھیلا ہوا ہے، یہ بڑھتا رہے گا۔

سیاسی استحکام اور سماجی رواداری کا فروغ

ڈاکٹر فرحان صدیقی سمجھتے ہیں کہ معیشت درست نہ ہوئی تو اس سے سیاسی عدم استحکام بھی بڑھتا رہے گا اور ملک کو جس سماجی رواداری کی ضرورت ہے وہ بھی فروغ نہیں پا سکے گی۔
’جب حکومت معیشت سنبھالنے میں ناکام ہو گی تو اس کے خلاف عوامی جذبات بڑھیں گے اور ساتھ ہی اپوزیشن کی مقبولیت بھی۔ اور اگر عمران خان اپوزیشن میں ہوئے تو ان کے ساتھ پہلے سے قائم عوامی ہمدردی آسمان پر پہنچ جائے گی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اصولی طور پر تو منتخب حکومت کو مخالفین کی طرف آگے بڑھنا چاہیے لیکن لگتا یہی ہے کہ مسلم لیگ نواز اور مقتدرہ عمران خان کو مزید دبانے کی کوشش کریں گے جس سے حالات زیادہ خراب ہوں گے، اور سماجی رواداری جس کی بہت ضرورت ہے کو حاصل کرنے میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔

بلوچستان میں بد امنی

انتخابات کے بعد بلوچستان میں حالات پھر سے خراب ہو رہے ہیں اور قوم پرست جماعتیں دھاندلی کے خلاف بیانیے پر اکٹھی ہو رہی ہیں۔ڈاکٹر فرحان صدیقی کے مطابق یہ آنے والی حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس کو حل کرنے کے لیے کافی بصیرت کی ضرورت ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان میں امن و امان علاقائی صورتحال سے بھی منسلک ہے اور اس کی بہتری کے لیے حکومت کو کثیر الجہتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔‘

سکیورٹی صورتحال

انتخابات سے پہلے اور بعد کے چند دنوں میں صرف بلوچستان میں 63 حملے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں بھی عسکری کاروائیاں ہوئی ہیں جو سکیورٹی صورتحال کے انتہائی مخدوش ہونے کا پتہ دیتی ہیں۔ڈاکٹر فرحان صدیقی کے خیال میں اس کا حل بھی سیاسی ہے لیکن اس کے لیے طویل جدوجہد کی ضرورت ہے اور جزا و سزا کا ایک باقاعدہ نظام بنانے کی ضرورت ہے۔
تاہم سکیورٹی کے استحکام کے متعلق کام کرنے والے ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے سینیئر تجزیہ کار صفدر سیال سمجھتے ہیں کہ اس مسئلے کو فوجی طریقے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے کیونکہ جب بھی مذاکرات ہوئے ہیں تو شدت پسندوں نے غیر حقیقی شرائط رکھی ہیں۔صفدر سیال کے مطابق آنے والی حکومت سکیورٹی کے معاملے میں ریاستی اداروں کی پالیسی ہی لے کر چلے گی اور اسی کے تحت بلوچ علیحدگی پسندوں اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے نمٹے گی۔

متوازن خارجہ پالیسی

ماہرین کے مطابق حسب معمول متوازن خارجہ پالیسی ایک بڑا چیلنج ہو گا اور پاکستان کی نئی حکومت کو انتہائی مہارت کے ساتھ چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ برابری کے تعلقات کو فروغ دینا ہو گا۔اسی طرح انڈیا میں انتخابات کے بعد بظاہر یہی امکان نظر آتا ہے کہ مودی زیادہ مضبوط ہو کر آئیں گے جس کے بعد ان کے ساتھ بہتر تعلقات بنانا اور ایک امن کی فضا قائم رکھنا بھی انتہائی اہم ہو گا۔سی پیک کو آگے بڑھانے کے لیے بھی نئی حکومت کو اہم اور زیرک فیصلے کرنے ہوں گے کیونکہ اس سے ملک کی تعمیر و ترقی اور علاقائی رابطے کے لیے مستقبل کی سمت کا تعین ہو گا۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے