غزہ جنگ اور مغربی اقدار کو درپیش چیلنجز

2578425-israelibombartment-1702636922-632-640x480.jpg

مغربی اقدار

مختلف اقسام کی جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی اظہار اور میڈیا کی آزادی، حکومتوں کے خلاف احتجاج اور تنقید کا حق، لوگوں کی نجی زندگی میں حکومتوں کی عدم مداخلت اور انفرادیت (individualism)، منصفانہ عدالتی کاروائی کا حق اور آزاد اور کرپشن سے عاری عدلیہ، عقائد، نظریات اور سیاسی رجحانات سے قطع نظر ملازمت کے برابر مواقع فراہم ہونا، مغربی اقدار کی فہرست میں شامل ایسے چند اہم موارد ہیں جن پر مغربی یورپ (یورپی یونین کے رکن ممالک) اور شمالی امریکہ (کینیڈا اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ) کے حکومتی نظام زور دیتے ہیں اور ایک نظام کے تحت قانونی انداز میں ان پر کاربند ہونے پر فخر کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مغربی دنیا میں نہ صرف قوانین اور ضوابط میں ان اقدار پر بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے بلکہ یہ مغربی معاشروں کے عرف عام میں بھی ریڈ لائنز کی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔

چیلنجز کا آغاز

انیسویں صدی عیسوی سے اس طرف مغرب کی جدید تاریخ کا مطالعہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ مغرب کی تمام تر بنیادی اقدار اور ان کا نچوڑ سمجھے جانے والے "جمہوری” لاحقے کے ساتھ جدید حکومتی نظاموں کے قیام کے باوجود مغربی سامراج کا خاتمہ نہیں کیا گیا اور وہ جوں کا توں باقی رہا۔ لہذا مغربی اقدار کو درپیش پہلا بڑا چیلنج انسانی حقوق کے دعویدار جدید مغربی نظاموں کی جانب سے خاص طور پر افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں سامراجی رویوں کو جاری رکھنا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یورپی ممالک کی تمام کالونیاں انقلابات اور جنگوں کے نتیجے میں آزادی حاصل کر پائیں اور ایک بھی ایسی کالونی نہیں جسے مغربی سامراج نے اپنی اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے بچنے کی خاطر اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کیلئے آزاد کر دیا ہو۔ کالونیوں کے بظاہر آزاد ہونے کے بعد بھی مغربی سامراجی طاقتیں میڈیا جیسے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے ان جدید التاسیس ریاستوں میں مسلسل مداخلت کرتی آئی ہیں۔

1950ء سے 1953ء تک کوریا کی جنگ، 1955ء سے 1975ء تک ویت نام کی جنگ، 1991ء میں دوسری خلیج فارس کی جنگ، 2001ء سے 2021ء تک افغانستان کی جنگ اور 2003ء میں عراق کی جنگ، ان فوجی مداخلتوں کا چھوٹا سا حصہ ہیں جن کی قیادت زیادہ تر امریکہ اور اس کے ساتھ مغربی یورپ کے جمہوری ممالک نے کی ہے۔ وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج اور مخالفت کے ساتھ یہ جنگیں بے سود بھی ثابت ہوئی ہیں۔ مزید برآں، برسوں تک جاری رہنے والی ان جنگوں کے دوران بڑے پیمانے پر جنگی جرائم کا بھی ارتکاب کیا گیا اور مغربی اقدار کو پوری طرح بھلا دیا گیا۔ دوسری طرف مغربی میڈیا کے ذریعے مغربی اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بہت سارے جھوٹ بولے گئے، خون ناحق بہایا گیا۔ مقبوضہ ممالک کی عوام پر بہت ظلم ڈھائے گئے، انصاف کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا اور ان ممالک کی معیشتیں تباہ کر دی گئی۔

مشرق وسطیٰ، انسانی حقوق کی قربان گاہ

مغرب کی بنیادی ترین اقدار میں سے ایک "انسانی حقوق” ہے۔ اگرچہ اس کے متزلزل ہونے کی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں لیکن مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحاد کی جانب سے انجام پانے والا جنگوں کا سلسلہ بذات خود ایک سنگین معاملہ ہے۔ اسی طرح سعودی اتحاد کی یمن کے نہتے عوام پر جارحیت اور مغرب کی جانب سے اس کی حمایت بھی مغربی اقدار خاص طور پر انسانی حقوق کے زوال میں اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ اس ہر پہلو سے نقصان دہ جنگ نے فوجی میدان میں بھی اور جنگی جرائم کے ارتکاب، اپنے نتائج بالخصوص یمن کے عوام پر قحط اور بھوک مسلط کرنے اور مغرب کی خاموشی کے لحاظ سے بھی مغرب کے انسانی حقوق کے بت کو خاک میں ملا دیا ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن پوسٹ کے سعودی نژاد صحافی، جمال خاشقجی کے گھناؤنے قتل کے مرکزی کردار (شہزادہ محمد بن سلمان) کے بارے میں مغربی حکمرانوں اور ذرائع ابلاغ کی مجرمانہ خاموشی نے آزادی اظہار اور انسانی حقوق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

غزہ جنگ، مغربی اقدار کے تابوت میں آخری کیل

2007ء میں غزہ کے عوام نے بھرپور شرکت کے ساتھ منعقد ہونے والے الیکشن کے ذریعے حماس رہنماوں کو بھاری مینڈیٹ سے منتخب کر لیا۔ اس کے فوراً بعد اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ شروع کر دیا۔ اس محاصرے نے غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جبکہ مغرب ہر لحاظ سے اس کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کر رہا ہے۔ اگر مغربی طاقتیں جمہوریت کی محافظ ہیں اور جمہوریت کی بنیاد آزادانہ الیکشن پر استوار ہے، تو غزہ کی عوام کو ان کے انتخاب کی سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ ایسی سزا جس کے نتیجے میں 20 لاکھ کی آبادی پر مشتمل علاقہ، علاقہ غیر میں تبدیل ہو جائے، وہاں کے باسیوں کو نہ تو سفر کرنے کا حق حاصل ہے اور نہ ہی وہ باہر کی دنیا سے تجارت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ انہیں نہ تو باعزت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور نہ ہی صحت اور سلامتی سے بہرہ مند ہونے کا حق رکھتے ہیں۔ ان نہتے عوام کے سامنے واحد راستہ یا تو سسک کر مرنا ہے یا اسرائیلی بمباری میں فوری موت ہے۔

ان تمام حالات نے طوفان الاقصی آپریشن کے بعد مغربی ممالک کی مزید سختیوں اور غزہ پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے ساتھ مغربی اقدار کو درپیش چیلنجز کا نیا باب کھول دیا ہے۔ یورپی ممالک میں فلسطین کے حق میں مظاہروں پر پابندی اور مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت میں سڑکوں پر آنے والے عام نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال نے ایک بار پھر مغربی حکمرانوں کی اپنی ہی بیان کردہ اقدار سے وفاداری اور ان کی پاسداری کے دعووں کی صداقت پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ فرانس کے وزیر انصاف نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی سوشل میڈیا پر حماس اور اسلامک جہاد سے ہمدردی کا اظہار کرے گا اسے 5 سال قید کی سزا دی جائے گی۔ اس اعلان نے مغرب میں آزادی اظہار کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔

 

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے