کسی بھی ملک کو قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پاکستان کی سرحدی خلاف ورزی کرے، ایم ڈبلیو ایم

244.jpg

پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی کشیدگی کے حوالے سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کا رسمی موقف سامنے آگیا ہے۔ مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیہ میں ترجمان مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے کہا ہے کہ کسی خود مختار ریاست کی سرحدوں کا احترام ایک قانونی و اخلاقی تقاضہ ہے، کسی بھی ملک کو اس بات کی قطعاََ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کرے یا کسی غیر معمولی واقعہ کو جواز بنا کر سرحدی خلاف ورزی کرے، ایران کی طرف سے پاکستان کے سرحدی علاقے پر حملے نے دو برادر اسلامی ممالک کے درمیان تناؤ کی صورتحال پیدا کردی ہے جس کا فوری سفارتی حل نکالنا ضروری ہے، مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال اور امت مسلمہ کو درپیش عالمی خطرات اس امر کا تقاضا کرتے ہیں کہ مسلم ممالک کسی عالمی سازش کا شکار ہونے سے بچیں اور باہمی معاملات میں عجلت پسندی کی بجائے حکمت و بصیرت کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔
ترجمان ایم ڈبلیو ایم نے مزید کہا ہے کہ ہمیں شاطر دشمن کا سامنا ہے جس نے جیش العدل، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور لشکر جھنگوی جیسے شدت پسند گروہوں کو اسلامی ممالک کے امن کو تباہ کرنے اور اپنے مقاصد کے مطابق استعمال کرنے کے لئے تشکیل دے رکھا ہے، پاکستان اور اسلامی برادر ممالک کے درمیان دیرینہ و پائیدار تعلقات کو عالمی اسٹیبلشمنٹ کی کسی سازش کی نذر نہیں کیا جا سکتا، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی سرحدوں کے احترام کو ترجیح دیتے ہوئے ناخوشگوار معاملات کو سفارتی انداز میں حل کرنا ہوگا تاکہ جلتی پر تیل چھڑکنے والوں کی امیدیں خاک ہوں، پاکستان اور ایران کے مابین اختلافات اور تناؤ کے پیچھے امریکہ و اسرائیل کا سازشی ہاتھ ہے جو دونوں اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دیکر مسئلہ فلسطین اور غزہ میں اپنی ناکامی کو چھپانا چاہتا ہے۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے