جسٹس اعجازالاحسن کا استعفیٰ: غیر ضروری قیاس آرائیوں سے گریز کی ضرورت

syed-mujahid-ali-1-300x224.jpg

دو دن کے دوران سپریم کورٹ کے دو ججوں کے استعفوں سے ملک میں ایک سنسنی خیز صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے گزشتہ روز اپنا استعفیٰ صدر عارف علوی کو بھجوایا تھا جو انہوں نے آج منظور کر لیا۔ آج جسٹس اعجازالاحسن نے آئینی شق 206 ( 1 ) کے تحت کوئی وجہ بتائے بغیر اپنا استعفی صدر کو بھجوا یا ہے۔ صدر کے نام خط میں جسٹس اعجاز کا کہنا تھا کہ ’وہ اب مزید سپریم کورٹ کے جج کے طور پر کام نہیں کرنا چاہتے‘ ۔

جسٹس اعجاز الاحسن کا استعفی ان معنوں میں ایک اہم اور حیران کن پیش رفت ہے کہ وہ اسی سال اکتوبر میں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے والے تھے۔ اس وقت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد جسٹس طارق مسعود سینئر ترین جج ہیں لیکن وہ مارچ میں ریٹائر ہوجائیں گے۔ اس کے بعد جسٹس اعجازالاحسن چیف جسٹس کے بعد سینئر ترین جج ہوتے اور 25 اکتوبر 2024 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ لگ بھگ ایک سال کے لیے ملک کا چیف جسٹس مقرر ہوسکتے تھے۔ تاہم اچانک استعفیٰ کے بعد سینیارٹی میں ان کے بعد آنے والے جسٹس منصور علی شاہ اکتوبر میں چیف جسٹس بنیں گے اور تین سال سے زیادہ مدت تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن کی سینیارٹی کی وجہ سے ہی ان کے استعفیٰ کے بارے میں کئی سوال سامنے آئے ہیں۔ وہ نواز شریف کے خلاف پاناما کیس میں فیصلہ دینے والے بنچ کا حصہ تھے اور بعد میں احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف مقدمات کے مانیٹرنگ جج بھی مقرر ہوئے تھے۔ مسلم لیگ (ن) ماضی میں ان کی غیر جانبداری پر سوال اٹھاتی رہی ہے۔ ان کے استعفیٰ پر پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگ زیب نے ایک بار پھر ان الزامات کو دہرایا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ محض استعفیٰ دے کر نا انصافی کرنے والے جج بچ نہیں سکتے۔ البتہ یہ بیان سپریم کورٹ کے بارے میں غیر ضروری سنسنی پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ سیاست دانوں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ البتہ یہ اصول واضح ہونا چاہیے کہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں سمیت کوئی بھی شہری اگر قانون شکنی کا مرتکب ہوتا ہے تو اسے قانون کے سامنے جواب دہ بنانے کی روایت قائم کی جائے۔

ملک میں بوجوہ ایسا سیاسی، عدالتی یا انتظامی کلچر متعارف نہیں ہوسکا جس کے تحت کسی بھی عہدے پر فائز کوئی بھی شخص محض اپنے موجودہ یا سابقہ عہدے کی بنیاد پر جوابدہی یا احتساب سے نہ بچ سکے۔ البتہ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج کے اچانک استعفیٰ کے بعد اگر ایک سیاسی جماعت پوائنٹ اسکورنگ کرنے کی کوشش کرے گی تو کوئی دوسری پارٹی ان ’ججوں‘ کو مظلوم قرار دے کر ملکی نظام انصاف کے بارے میں سوالات اٹھانا شروع کر سکتی ہے۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں دیگر سنگین اور اہم مسائل کی موجودگی میں اب سپریم کورٹ کے ججوں کے بارے میں مباحثہ کا آغاز مثبت اور صحت مند رجحان نہیں ہو گا۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ روز ہی چار سال کے بعد سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی حیثیت اور فیصلے کو بحال کیا ہے۔ دسمبر 2019 میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزائے موت کی سزا دی تھی۔ تاہم اس کے چند ہفتے کے اندر ہی لاہور ہائی کورٹ کے ایک سہ رکنی بنچ نے خصوصی عدالت کو ہی غیر آئینی قرار دے کر ختم کر دیا تھا۔ اس طرح یہ فیصلہ بھی کالعدم ہو گیا۔ سپریم کورٹ چار سال تک اس اہم آئینی نکتہ پر غور کے لیے وقت نہیں نکال سکی تھی کہ سپریم کورٹ کی طرف سے مقررہ کی ہوئی ایک ایسی خصوصی عدالت کو جس کی سربراہی بھی ایک صوبے کے چیف جسٹس کر رہے تھے، ایک دوسری ہائی کورٹ کیوں کر خلاف آئین قرار دے سکتی تھی۔ اگر یہ امر واقعہ بھی تھا تو بھی لاہور ہائی کورٹ کو یہ معاملہ یا تو دائرہ اختیار سے باہر ہونے کی بنیاد پر خارج کر دینا چاہیے تھا یا اسے حتمی اور مناسب فیصلہ کے لیے سپریم کورٹ کے پاس بھیجنا چاہیے تھا۔

نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ دائرہ کار کے باہر ہونے کے باوجود لاہور ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک خصوصی عدالت ختم کرنے میں دیر نہیں کی کیوں کہ اس نے پاک فوج کے ایک سابق سربراہ کو آئین شکنی کا مرتکب قرار دینے کی جرات کی تھی۔ حالانکہ یہ سزا محض رسمی تھی کیوں کہ پرویز مشرف اس وقت ملک سے باہر تھے اور اپنی موت تک وہ دبئی ہی میں رہے تھے۔ اس کے باوجود لاہور ہائی کورٹ کو فوجی قیادت کی خوشنودی کی خاطر ایک فیصلہ کرنے پر آمادہ کیا گیا اور سپریم کورٹ نے تواتر سے اس معاملہ کو نظر انداز کر کے یہ واضح کیا کہ ملک میں بہر حال کچھ لوگ ’مقدس گائے‘ کا درجہ رکھتے ہیں جو اگر قانون و آئین کا مذاق بھی اڑائیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے چار رکنی بنچ نے اس ’متھ‘ کو توڑا ہے۔ بنچ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی کالعدم کیا اور خصوصی عدالت کی سزا بھی بحال کردی۔ اس بار یہ خوشگوار تبدیلی بھی دیکھی گئی ہے کہ پاک فوج کی طرف سے اپنے ایک سابق سربراہ کی ’نیک نامی‘ کی حفاظت کے لیے غیر معمولی گرمجوشی دکھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ حالانکہ دسمبر 2019 میں خصوصی عدالت کا فیصلہ آنے کے بعد آئی ایس پی آر کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

پرویز مشرف کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلہ سے اعلیٰ عہدوں پر کام کرنے والے افراد کی قانون شکنی کا احتساب کرنے کی روایت راسخ ہوگی۔ امید کرنی چاہیے کہ یہ سلسلہ صرف ماضی میں آئین و قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اب بھی اگر ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو اس کا نوٹس لینے اور متعلقہ عہدیدار کو قانون کے مطابق سزا دینے کا اہتمام ہو۔ احتساب کا یہ رویہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے بارے میں بھی اختیار ہونا چاہیے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے یہی بات سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ریفرنس کی سماعت کرنے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے دوران بھی کہی ہے۔ مظاہر علی اکبر نقوی کے استعفیٰ کی اطلاع دیتے ہوئے اٹارنی جنرل نے سپریم جوڈیشل کونسل کو بتایا تھا کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے مطابق اگر کوئی جج استعفیٰ دے دیتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔ تاہم چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کوئی جج پورے ادارے کی ساکھ تباہ کر کے استعفی دے جائے اور ہم کوئی کارروائی نہ کریں۔ پورا پاکستان ہماری طرف دیکھ رہا ہے۔ کوئی تو فائنڈنگ دینی ہے، شکایات جینوئن تھیں یا نہیں‘ ۔

یہ ایک راست ردعمل ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف مالی بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان کے استعفیٰ کے بعد یہ معاملہ دبایا نہیں جاسکتا۔ اگر انہوں نے جج کے طور پر اپنی پوزیشن استعمال کرتے ہوئے جائیداد بنائی ہے تو اس کرپشن کے خلاف مناسب کارروائی ہونی چاہیے اور اگر یہ الزامات بے بنیاد ہیں جیسا کہ جسٹس (ر) نقوی نے اپنے استعفے میں دعویٰ کیا تھا تو سپریم جوڈیشل کونسل ان کے بارے میں حقیقی معلومات سامنے لائے۔ اسی لئے سپریم جوڈیشل کونسل نے اس معاملہ کو استعفیٰ کے بعد ختم کرنے کی بجائے مظاہر علی اکبر نقوی اور ان کے وکیل کو کل طلب کیا ہے کہ وہ اپنا موقف واضح کریں۔ امید کرنی چاہیے کہ اس حوالے سے بھی کوئی روشن روایت قائم کی جائے گی۔

جسٹس اعجازالاحسن کے خلاف البتہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کوئی کارروائی زیر غور نہیں تھی لیکن وہ مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کارروائی سے مطمئن نہیں تھے اور انہیں دیے جانے والے شو کاز نوٹس کے خلاف تھے۔ وہ آج سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں شریک بھی نہیں ہوئے بلکہ اس کی بجائے انہوں نے اچانک جج کے طور پر عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ استعفیٰ اصولی ہو سکتا ہے لیکن سپریم کورٹ کے بنچوں میں بیشتر فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور اختلاف کرنے والے جج ریکارڈ درست رکھنے کے لیے اپنا اختلافی نوٹ لکھ دیتے ہیں۔ اکثریتی رائے سے اختلاف، کسی جج کے استعفیٰ کی وجہ نہیں بنتا۔ نہ ہی جسٹس اعجاز الاحسن نے ایسا کوئی دعویٰ یا شکایت کی ہے۔ اس لیے اس حوالے سے غیر ضروری قیاس آرائیاں بھی نہیں ہونی چاہئیں۔

مس کنڈکٹ کے الزام میں ان کے خلاف ایک ریفرنس اپریل میں دائر کیا گیا تھا۔ تاہم اس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ جسٹس اعجاز الاحسن کو اندیشہ تھا کہ مظاہر علی نقوی کے بعد ان کے خلاف ریفرنس پر غور ہو سکتا ہے، اس لیے انہوں نے پیش بندی کے طور پر عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ البتہ دس ماہ میں ملک کا چیف جسٹس بننے والے جج کے لیے اس قسم کے قیاسات کی بنیاد پر عہدہ چھوڑنا بھی کوئی قابل فہم دلیل نہیں ہے۔ اس لیے ان کی اس بات سے اتفاق کرلینا چاہیے کہ وہ اب مزید اس عہدے پر کام نہیں کرنا چاہتے۔ ملکی آئین انہیں استعفی کا حق دیتا ہے اور انہوں نے اسے استعمال کیا ہے۔

چیف جسٹس ملک میں احتساب کی اعلیٰ روایت قائم کرنا چاہتے ہیں تاہم ضروری ہو گا کہ اس حوالے سے سب سے پہلے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف آنے والی شکایات کو پرکھنے اور قابل غور شکایات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں مناسب وقت میں کارروائی کی جائے۔ ججوں کے خلاف سال ہا سال تک شکایات پڑی رہتی ہیں حتی کہ وہ عہدے پر مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جاتے ہیں لیکن ان شکایات کے بارے میں کوئی رائے سامنے نہیں آتی۔ یہ صورت حال سپریم کورٹ جیسی اعلیٰ عدالت کے وقار کے خلاف ہے اور اس پر اعتبار کو کمزور کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اول تو محض عادتاً شکایات کرنے کی حوصلہ شکنی کی جائے لیکن جو شکایات قابل غور ہوں، انہیں غیر ضروری طور سے زیر التوا نہ رکھا جائے بلکہ متعلقہ جج اور عدلیہ کی شہرت کے لیے، شکایات کو نمٹانے کا کوئی موثر اور فعال طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے