انتخابات سے قبل افغان انٹیلی جنس کے نائب سربراہ کا دورہ پاکستان کتنا اہم؟

334281-594987642.jpg

افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ایک سینیئر رہنما ملا شیریں اخوند ان دنوں پاکستان میں ہیں، جہاں انہوں نے بدھ کو اسلام آباد میں نگران وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی سے ملاقات میں امن اور سکیورٹی سے متعلق امور سمیت دوطرفہ معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

محمد علی حنفی جو کہ ملا شیریں اخوند کے نام سے جانے جاتے ہیں افغان انٹیلی جنس کے نائب سربراہ اور افغان صوبے قندھار کے گورنر ہیں۔ ملا شیریں اخوند کی قیادت میں طالبان وفد کا اسلام آباد کا دورہ اس لیے اہمیت کا حامل ہے کہ وہ طالبان کے سابق سربراہ ملا محمد عمر کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے ایک ہیں۔

ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے موجودہ رہنما کے بھی کافی قریبی ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ قندھار میں موجود طالبان امیر ہبت اللہ اخندزادہ کا خصوصی پیغام لے کر آئے ہیں۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق ’دونوں اطراف کے درمیان ڈیورنڈ لائن خاص طور پر چمن کے راستے سے ویزا فری ٹرانزٹ اور ٹی ٹی پی کے کچھ ارکان کی حوالگی پر زیادہ بات گی۔

حکومت پاکستان کی جانب سے پا افغان سرحد پر نقل و حرکت کو دستاویزی شکل دینے کے فیصلے کے خلاف چمن کے سرحدی مقام پر مقامی افراد کی جانب سے طویل احتجاج جاری ہے اور سرحدی تجارت متاثر ہوئی ہے۔ خیال ہے کہ دونوں ملک اس مسئلہ کا کوئی حل یا درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے ملاقات کے بعد بدھ کی شب جاری ایک بیان میں کہا کہ جلیل عباس جیلانی اور ملا شیریں اخوند کے درمیان ملاقات میں امن و سلامتی سے جڑے معاملات کے علاوہ عوامی رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان کے نگران وزیر خارجہ جلیل عباسی جیلانی نے سماجی رابطے کے پیلٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں لکھا کہ ان کی ملا شیریں سے ملاقات سود مند رہی۔

انہوں نے افغانستان کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات پر رابطوں کے تسلسل کے عزم کو دہرایا اور ’تجارت اور رابطوں کی پوری صلاحیت کو بروئے کار لانے کے لیے تمام مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔‘

ملا شیریں کی قیادت میں افغان وفد نے اسلام آباد میں پاکستان افغانستان مشترکہ رابطہ کمیٹی کے چھٹے اجلاس میں بھی شرکت کی، جس کے دوران سرحد پار نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے رابطہ کاری کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔

ملا شیریں کون ہیں؟

قندھار میں طالبان کے گورنر کے عہدے پر تعینات ہونے سے پہلے وہ طالبان کی وزارت دفاع کے ڈپٹی انٹیلی جنس افسر تھے۔ جب قندھار کے سابق گورنر کو بلخ میں طالبان کا گورنر مقرر کیا گیا تو انہیں ہیبت اللہ اخندزادہ کی رہنمائی میں قندھار کا گورنر مقرر کیا گیا۔

وہ دوحہ میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں طالبان وفد کے رکن بھی تھے۔

عام انتخابات سے قبل اس دورے کی اہمیت

پاکستان کو دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے اور افغانستان کی سرحد سے ملحقہ ملک کے صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ان میں سے بیشتر حملوں کی ذمہ داری یا تو کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) یا اس سے جڑے گروپوں نے تسلیم کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کی افغان سرزمین پر پناہ گاہیں موجود ہیں، جنہیں وہ ملک میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پاکستان افغانستان سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔ اس تناظر میں افغان انٹیلی جنس کے نائب سربراہ کا دورہ اہم ہے کیوں کہ پاکستان میں آئندہ ماہ انتخابات ہوںے ہیں اور ان کے پرامن انعقاد کے لیے پاکستانی فوج اور قانون فافذ کرنے والے ادارے جہاں اندرون ملک عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں بلکہ افغان سرحد پار سے بھی تعاون چاہتے ہیں۔
گذشتہ ماہ کے وسط میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مہلک حملے میں کم از کم 23 پاکستانی فوجیوں کی جان گئی اور اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے جڑے ایک گروپ تحریک جہاد پاکستان نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان نے اس حملے کے بعد افغانستان سے شدید احتجاج کرتے ہوئے افغان عبوری حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اپنی سر زمین پر ’تمام دہشت گرد گروہوں اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف فوری طور پر قابل تصدیق کارروائیاں کرے۔‘

پاکستان کا موقف رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کی افغانستان کی سرزمین پر پناہ گاہیں موجود ہیں جہاں سے وہ ملک میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

تاہم افغان حکام اس کی تردید کرتے ہیں۔ افغانستان میں طالبان عبوری حکومت کے عہدیدار کہتے آئے ہیں کہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ٹی ٹی پی کی افغانستان میں جدید ہتھیاروں تک رسائی

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب منیر اکرم نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی افغانستان میں جدید ہتھیاروں تک رسائی ایک بڑا خطرہ ہے، جس کی تحقیقات ہونی چاہییں۔

افغانستان سے متعلق سلامتی کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب میں منیر اکرم نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے حملے مزید مہلک ہو گئے ہیں کیوں کہ انہوں نے جدید ترین فوجی ساز و سامان اور ہتھیار حاصل کر لیے ہیں۔

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ یہ جدید ہتھیار اس سٹاک یعنی ذخیرے سے حاصل کیے گئے ہیں جو غیر ملکی افواج انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑ کر نکلیں۔ ’سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ایک تنظیم (ٹی ٹی پی) ان ہتھیاروں تک رسائی کیسے حاصل کر سکتی ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس بات کی مکمل جانچ کرے کہ یہ ہتھیار کیسے ٹی ٹی پی کے ہاتھ لگے اور وہ ان کو واپس کروانے کا راستہ تلاش کرے۔‘

منیر اکرم کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ رپورٹس ہیں کہ افغان عبوری حکومت داعش کے خلاف لڑائی میں کامیابی کا دعویٰ کرتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب بھی افغانستان کی سرزمین پر کئی دہشت گرد گروپ موجود ہیں اور اس بات کے شواہد ہیں کہ انہیں افغانستان کی عبوری حکومت کا تحفظ حاصل ہے۔‘

اقوام متحدہ میں مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو خاص طور پر کالعدم دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک دہشت گرد تنظیمیں سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی کے تسلسل سے پیش آنے والے واقعات میں ملوث ہیں، جس سے ہمارے عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کا قابل ذکر جانی نقصان ہوا ہے جب کہ فوجی اور دیگر تنصیبات کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔‘

گذشتہ ماہ کے آخر میں افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے مقامی ٹی وی چینل ’طلوع‘ نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ افغان حکومت نے گذشتہ ایک سال کے دوران 40 پاکستانی طالبان کو حراست میں لیا ہے اور اس خواہش بھی اظہار کیا کہ کابل حکومت پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات کی خواہاں ہے۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے