شام میں ایرانی پاسداران کے جنرل رضی موسوی کا قتل، خطہ کی صورتحال کشیدہ

4791708.jpg

شام کے دارالحکومت دمشق میں ایران کے پاسدران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید رضی موسوی اسرائیل کے حملے میں شہید ہو گئے۔ انہیں شام میں تعینات ایرانی عسکری ماہرین میں سب سے با اثر اور اہم اثاثہ سمجھا جاتا تھا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے دمشق میں زینبیا ضلع کے قریب میزائل حملہ کیا جس میں پاسدران انقلاب کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل سید رضی موسوی کی شہادت کی سرکاری طور پر تصدیق کر دی گئی ہے۔

اس حملے میں مزید شہادتوں کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ تاہم یہ معلوم ہوا ہے کہ سید رضی موسوی کو شام میں ایران کے سفیر سے ملاقات کے بعد دمشق کے جنوبی مضافاتی علاقے میں شہید کیا گیا۔

سفیر نے بعد میں تصدیق کی کہ وہ واقعی موسوی سے ملاقات کر چکے ہیں، دمشق میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ سید رضی ایک "سفارت کار” تھے اور نائب مشیر کے عہدے پر تعینات تھے۔ ایرانی سفیر کی اس وضاحت کے باوجود انٹرنیشنل اور خود ایرانی میڈیا جنرل رضی کو شام میں متعین پاسداران انقلاب کے موثر ترین جنرل کی حیثیت سے پیش کر رہا ہے۔
جنرل موسوی کو لبنان اور شام میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھنے والی تجربہ کار فوجی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔وہ IRGC کی قدس فورس اور شامی حکومت کے درمیان رابطہ کاری کے انچارج تھے اور ایران کی شام میں موجود افواج اور شام کے ساتھ ساتھ لبنان کی حزب اللہ تحریک کو ہتھیاروں کی ترسیل میں سہولت فراہم کرتے تھے۔ موسوی نے حزب اللہ کو ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔
ایران کے پاسدارن انقلاب نے بھی اپنے کمانڈر کی شام میں شہادت  کی تصدیق کردی ہے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق دمشق میں تعینات بریگیڈیئر جنرل رضی موسوی شام میں مزاحمتی یونٹ کے انچارج تھے۔ پاسداران انقلاب نے دھکمی دی ہے کہ اسرائیل کو رضا موسوی کے قتل کی قیمت چکانی ہوگی۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے