انسانی حقوق مغرب نہیں اسلام کا ایجنڈا، خطبہ حجۃ الوداع اصل چارٹر، ایکسپریس فورم

2576180-humanrightsexpressforum-1702189781-980-640x480.jpg

لاہور: انسانی حقوق مغرب کا ایجنڈا نہیں، حضرت محمدؐ کا خطبہ حجۃ الوداع انسانی حقوق کا چارٹر ہے، حقوق العباد کا مطلب انسانی حقوق ہے جو دین اسلام نے1500 برس قبل ہی دے دیے، ہمیں ایک دوسرے کے حقوق اور عزت نفس کا احترام کرنا ہوگا۔معاشرے میں عدم برداشت اور تشدد جیسے رویوں میں اضافہ ہو رہا ہے جو افسوسناک ہے، ہمیں قبولیت کی فضاء کو عام کرنا ہوگا۔ یہ انسانی حقوق کا 75واں عالمی دن ہے، رواں برس حکومت پنجاب نے اسے ’’بین المذاہب ہم آہنگی‘‘ سے جوڑا ہے، ہمیں مذہبی اور صنفی اقلیتوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہے۔ اقلیتوں کیلیے تعلیم اور صحت کا کوٹہ مختص ہے، اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔تعلیمی نصاب سے نفرت انگیز مواد کا خاتمہ کر دیا گیا ، ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کیلیے گھر سے بچوں کی تربیت کرنا ہوگی، تعلیمی اداروں میں بین المذاہب ہم آہنگی کمیٹیاں قائم کرنے سے رواداری کو فروغ ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار حکومت، اکیڈیمیا اور سول سوسائٹی کی نمائندہ خواتین نے ’’انسانی حقوق کے عالمی دن‘‘ کی مناسبت سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

ایڈیشنل سیکرٹری برائے انسانی حقوق پنجاب رضوانہ نوید نے کہا کہ دین اسلام نے 1500قبل انسانی حقوق دیے جو ہمیں پیدائش کے وقت سے ہی مل جاتے ہیں، آئین پاکستان کے آرٹیکل 2 سے 22 تک انسانی حقوق کے حوالے سے ہیں، ان پر عملدرآمد صرف حکومت نہیں کرسکتی، سول سوسائٹی ، معاشرہ اور عوام نے مل کر کام کرنا ہوتا ہے،اس میں ماں کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے، گھر سے تربیت دینے سے معاشرتی مسائل کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

سابق وائس چانسلر ہوم اکنامکس یونیورسٹی لاہور ڈاکٹر کنول امین نے کہاکہ انسانی حقوق کو مغرب کا ایجنڈہ قرار دیا جاتا ہے جبکہ حضرت محمدﷺ نے اپنے آخری خطبے میں جوکچھ فرمایا وہ انسانی حقوق ہیں، حقوق العباد کا مطلب ہی انسانی حقوق ہیں لہٰذا ہمیں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا ہے۔انھوں نے کہاکہ ہمیں معاشرے میں ایک دوسرے کی قبولیت پیدا کرنی ہے، اس کاآغاز گھر اور سکول سے کیا جائے، ہمیں سب کی شراکت اور شمولیت کی طرف جانا ہے، اگر ہم مخلوق خدا کو تنگ کریں گے تو اس کا جواب دینا ہوگا۔

نمائندہ سول سوسائٹی صبیحہ شاہین نے کہاکہ انسانی حقوق کے حوالے سے سول سوسائٹی کا کردار انتہائی اہم ہے، ہم پہلے مذہبی اقلیتوں کی بات کرتے تھے، اب صنفی اقلیتوں کی بھی بات کرتے ہیں جن میں خواجہ سراء، خصوصی افرادودیگرشامل ہیں، سول سوسائٹی کی کاوشوں کے نتیجے میں مذہبی و صنفی اقلیتوں کیلیے ہائر ایجوکیشن میں کوٹہ رکھا گیا جس پر وائس چانسلرز کانفرنس میں خصوصی بات چیت ہوئی۔انھوں نے کہاکہ ہمارے ہاں قوانین اچھے ہیں، مذہبی و صنفی اقلیتوں کے حوالے سے بعض قوانین تو اتنے اچھے ہیں جو ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ خواجہ سراء کے شناختی کارڈ و دیگر سہولیات اس کی مثال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کیلیے ملازمت میں 5 فیصد کوٹہ مختص ہے، ہمارے ہاں پالیسیاں موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد میں امتیازی رویے برتے جاتے ہیں۔

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے