سراج الدین حقانی: طالبان رہنما کے مبینہ ’پاکستانی پاسپورٹ‘ پر انکوائری، معاملہ ہے کیا؟

881547d0-95fb-11ee-b9a7-c91b9dfa91e5.jpg

پاکستان میں ایک طرف غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی جاری ہے اور ہزاروں غیر ملکیوں خصوصاً افغان باشندوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کسی نہ کسی طرح پاکستانی دستاویزات جن میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ شامل ہیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے کیونکہ اب کی بار پاکستانی حکومت پر عزم ہے کہ کسی کو بھی غیر قانونی طور پر پاکستان میں رکنے نہیں دیا جا ئے گا۔ اسی اثنا میں ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ پاکستانی دستاویزات حاصل کرنے والوں میں افغانستان میں قائم طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی بھی شامل ہیں۔

خبروں میں دعوے کیے گئے ہیں کہ ان کے پاس نہ صرف وہ پاکستانی پاسپورٹ ہے بلکہ اپنی ہی تصویر والے ان دستاویزات پر وہ بیرونِ ملک سفر کر چکے ہیں۔ تاہم اب پاکستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ اس بارے میں انکوائری کی جا رہی ہے ۔

ادھر افغانستان میں صاحب اقتدارِ امارات اسلامی افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے سراج الدین حقانی کے پاکستانی پاسپورٹ کے اجراء کی خبر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ْ

ان کا کہنا تھا کہ سراج الدین حقانی نے کسی اور ملک کا کبھی دورہ نہیں کیا ہے کیونکہ ان کے سر کی بھاری قیمت مقرر کی گئی تھی۔
پاکستان میں وزارت خارجہ کی ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں پوچھے گئے سوال پر کہا کہ انھوں نے بھی یہ خبر ذرائع ابلاغ میں دیکھی ہے لیکن اس بارے میں وہ اس وقت کچھ نہیں کہہ سکتیں لیکن جب ان کے پاس اس بارے میں کوئی معلومات ہوں گی تو وہ شاید اس پر بات کر سکیں۔

وزیر داخلہ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ اس بارے میں انکوائری کی جا رہی کہ آیا سراج الدین حقانی کو پاکستانی پاسپورٹ جاری ہوا ہے یا نہیں ان کا کہنا تھا کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ سراج الدین حقانی کا پاسپورٹ پاکستانی ہے بھی یا نہیں اور یہ کہ اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

افغانستان کے سابق دور حکومت میں انٹیلیجنس چیف رحمت اللہ نبیل کا بیان اخبار میں شائع ہوا جس میں کہا گیا کہ ماضی میں بیشتر طالبان سفر کے لیے پاکستان کا پاسپورٹ استعمال کرتے رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے قطر میں دفتر کے قیام اور مزاکرات کے لیے جانے کے لیے بھی پاکستان کے راستے سفر کیا کرتے تھے۔

سراج الدین حقانی کہاں جا رہے تھے؟

ذرائع ابلاغ میں ایک خبر گردش کر رہی ہے کہ افغانستان کے طالبان رہنما اور موجودہ طور پر افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کو پاکستان کا پاسپورٹ پانچ سال کی مدت کے لیے جاری کیا گیا تھا اور سراج الدین حقانی یہ پاسپورٹ قطر جانے کے لیے استعمال کیا کرتے تھے۔

یاد رہے کے طالبان نمائندوں کے قطر میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔

یہ خبر دینے والے سینیئر صحافی عمر چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بنیادی طور پر سال 2021 اور 2022 کی بات ہے جب یہ پاسپورٹ جاری کیا گیا تھا لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پاسپورٹ سراج الدین حقانی کے نام سے جاری ہوا تھا یا یہ کسی بھی اور ملتے جلتے نام سے جاری کیا گیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس پاسپورٹ پر ان کی اطلاع کے مطابق تصویر سراج الدین حقانی کی ہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ’اس سے پہلے افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور کا پاسپورٹ بھی برآمد ہوا تھا اور اس وقت اس پاسپورٹ پر ان کا نام ولی محمد لکھا گیا تھا۔‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ صرف سراج الدین حقانی ہی نہیں بلکہ پاکستان میں کئی غیر ملکیوں کو جعلی شناختی کارڈز اور پاسپورٹ جاری ہونے کی اطلاع ہے اور اس بارے میں اعلی سطح پر انکوائری کی جا رہی ہے۔ ذارئع کا کہنا ہے کہ اس وقت بڑی تعداد میں مشکوک کارڈز کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

اگرچہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ سراج الدین حقانی کے پاس پاکستان کا پاسپورٹ تھا یا نہیں لیکن سنہ 2016 میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کے پاس سے پاکستانی قومی شناختی کارڈ برآمد ہوا تھا جس کے بعد پاکستانی حکام نے اس حوالے سے تفتیش کا آغاز کیا تھا۔

نادرا نے اس واقعے کی محکمانہ انکوائری کروائی تاکہ جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے والے افسران کا تعین ہو سکے۔ اس انکوئری کے نتیجے میں کراچی کے علاقائی دفتر کے ڈپٹی اسٹسنٹ ڈائریکٹر کو برخاست کیا گیا تھا۔

افغانستان کی صورتحال اور افغان طالبان کے دوحہ میں دفتر کے قیام اور اس کے بعد وہاں اجلاس اور مزاکرات کی کوریج کرنے والے صحافی مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق سراج الدین حقانی نے پاکستان اور افغانستان کے علاوہ کسی کبھی بھی کسی دوسرے ملک کا دورہ نہیں کیا اور نہ ہی وہ کبھی قطر یا دوحہ مذاکرات کے لیے گئے ھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’امریکہ نے سراج الدین حقانی کے سر کی بہت بھاری قیمت مقرر کر رکھی تھی اور انھیں خطرہ تھا کہ کہیں ان کی معلومات حاصل کرکے انھیں نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اس لیے وہ کہیں باہر نہیں جاتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’قطر میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں سراج الدین حقانی کبھی نہیں گئے بلکہ دوحہ کے لیے طالبان کی اپنی ٹیم تھی جو مذاکرات کرتے تھے اور پھر افغانستان میں موجود رہنماؤں سے مشاورت کی جاتی تھی۔ سراج الدین حقانی کے اپنے نمائندے بھی ان مذاکرات کے لیے دوحہ میں موجود تھے۔‘

تاہم عمر چیمہ نے بتایا کہ انھوں نے یہ نہیں کہا کہ کہ وہ قطر مزاکرات کے لیے جاتے تھے بلکہ وہ کسی بھی مقصد کے لیے جا سکتے تھے اور ان کی ’اطلاع ہے کہ وہ دو سے تین مرتبہ قطر گئے ہیں۔

ملا اختر منصور کا پاکستانی پاسپورٹ

اگرچہ تاحال اس کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ سراج الدین حقانی کے پاس پاکستان کا پاسپورٹ تھا یا نہیں لیکن ماضی میں اس طرح کی خبر آئی تھی کہ افغان طالبان کے رہنما ملا اختر منصور جب بلوچستان میں ایک ڈرون حملے کا نشانہ بنے تو اس وقت ان کے پاس بھی پاکستان پاسپورٹ برآمد ہوا تھا۔

اس بارے میں مشتاق یوسفزئی کا کہنا ہے کہ جب سنہ 2016 میں ملا اختر منصور پر ڈرون حملہ ہوا تھا تو اس وقت ان کا جسم اور گاڑی مکمل طور پر جل گئے تھے۔

ملا اختر منصور ولی محمد کا نام بھی استعمال کرتے رہے ہیں تاکہ ان کی شناخت ظاہر نہ ہو سکے۔

ملا اختر منصور پر حملے کے بعد ان کی گاڑی کے قریب پاکستانی پاسپورٹ برآمد ہونے کے بعد سوالات بھی کیے گئے تھے کہ جب گاڑی اور ملا اختر منصور مکمل طور پر جل گئے تھے تو پھر پاسپورٹ کیسے محفوظ رہا تھا۔ ملا اختر منصور ایران کے دورے کے بعد واپس پاکستان سے افغانستان جا رہے جب ان پر بلوچستان میں چاغی کے مقام پر حملہ ہوا تھا۔

پاکستان میں موجودہ نگران حکومت نے افغان پناہ گزینوں کے بارے میں سخت پالیسی اختیار کی ہے اور یکم نومبر سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو وطن واپس بھیجا جا رہا ہے اور اب تک چار لاکھ افراد کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا ہے۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ بڑی تعداد میں افغان پاکستان کے جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ استعمال کر رہے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے میں ذرائع نے بتایا ہے کہ جعلی شناختی کارڈز اور پاسپورٹ کے خلاف ان کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں اور ان دنوں بھی اس بارے میں انکوائری کی جا رہی ہے۔

محکمہ داخلہ میں موجود ذرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت تمام ڈیٹا دیکھا جا رہا ہے اور مشکوک شناختی کارڈز کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔

لیکن یہ شناختی کارڈ بنتے کیسے ہیں؟

 

اس بارے میں ذرائع نے بتایا کہ ’ایک تو بالکل جعلی کارڈ بنایا جاتا ہے جس کا کوئی ریکارڈ ہی نہیں ہوتا اور ایک شناختی کارڈ نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی میں لوگ غیر ملکیوں کو اپنے خاندان کا بندہ ظاہر کرکے شناختی کارڈ بنوا لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ نادرا میں کچھ اہلکاروں کی مدد سے ڈیٹا حاصل کرکے بنائے جاتے ہیں۔‘

ذرائع نے بتایا کہ ’سادہ لوح اور ان پڑھ لوگوں سے کسی بہانے سے ان کے انگوٹھے کے نشان لے لیے جاتے ہیں۔ اور اس کے لیے ایسے خاندان کا انتخاب کیا جاتا ہے جن کے والدین یا بزرگوں کے نام کی مماثلت ہوتی ہے اور پھر اس خاندان کے ڈیٹا میں جعلی انٹری کرکے اس خاندان کا فرد ظاہر کر دیا جاتا ہے۔ اس خاندان کو معلوم بھی نہیں ہو پاتا کہ ان کے خاندان میں اجنبی لوگ شامل ہو چکے ہیں۔‘

سینیئر صحافی اعزاز سید کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے ایک پروگرام میں اس کا ذکر کیا تھا کہ اس طرح جعلی شناختی کارڈز اور ان پر جعلی پاسپورٹ بنائے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ شناختی کارڈ بعض اوقات خاندان کے لوگ یا کچھ افراد نادرا کے دفتر میں جا کر بنواتے ہیں اور ان افراد کو اپنے خاندان میں شامل کر لیتے ہیں جبکہ کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں نادرا کے کچھ اہلکار اس میں ملوث ہوتے ہیں اور ان کے خلاف کارروائیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔‘

اس بارے میں اب حکومت نے سخت اقدامات شروع کیے ہیں اور ایسے تمام لوگوں کا ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے جس کے بعد جعلی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے خلاف بڑی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔‘

About Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے