حجاز میں ایک سعودی خطیب نے فلسطین سے غداری پر عرب حکام کو جھنجھوڑ کر رکھدیا

باالآخر کیوں، حماس!

باالآخر کیوں حماس، تم نے یہودیوں کیساتھ جنگ چھیڑی اور یوں انہوں نے غزہ میں تم پر حملہ کر کے اسے تباہ کر ڈالا!؟

کیا یہ بہتر نہ تھا اے حماس! کہ تم محاصرے میں رہتے، یہودیوں کے لئے خیانت کر لیتے تاکہ وہ لوگوں پر بمباری نہ کرتے؟

کیا یہ بہتر نہ تھا کہ تم یہودیوں کو اجازت دے دیتے کہ وہ تمہاری سرزمین پر حکمرانی کرتے رہتے اور تمہاری ناموس لوٹتے رہتے لیکن تمہارے شہروں و شہریوں پر بمباری نہ کرتے؟

یہ بعض ”مسلمین” کا سوال ہے۔۔

وہ کہ جو فلسطینی جنگ کی حقیقت کو نہیں جانتے!

وہ کہ جو نہیں جانتے کہ یہود، مسلمانوں کو غلام بنانا، ان پر حکومت کرنا اور انہیں ذلیل کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ انہوں نے فلسطین کے دیگر علاقوں میں کیا ہے

اگر مجاہدین یہودیوں سے ہماری سرزمین کی آزادی کے لئے جہاد شروع نہ کرتے

تو یہودیوں کے طغیان میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا!

وہ چاہتے ہیں کہ تم یقین کر لو کہ یہ معرکہ حماس و اسرائیل کے درمیان ہے

وہ چاہتے ہیں کہ تم یقین کر لو کہ لوگ زمین کے ایک ٹکڑے پر لڑ پڑے ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک کا اس میں حق موجود ہے!

جیسا کہ انہوں نے قبل ازیں تمہیں یقین دلایا تھا کہ یہ شامیوں کا مسئلہ ہے، ان کے حاکم اور عوام کے درمیان اور اس کا تمہارے ساتھ کوئی تعلق نہیں

اور جیسا کہ انہوں نے قبل ازیں تمہیں یقین دلایا تھا کہ یہ عراقیوں کا مسئلہ ہے، قبائلی جھگڑا ہے، باہر سے کسی جارح کافر کا حملہ نہیں

اور جیسا کہ انہوں نے قبل ازیں تمہیں یقین دلایا تھا کہ یہ لیبیا والوں کا مسئلہ ہے، ان کا آپسی جھگڑا ہے

اور جیسا کہ انہوں نے قبل ازیں تمہیں یقین دلایا تھا کہ یہ تیونس والوں مسئلہ ہے، اس میں مداخلت نہ کرو!

اس طرح انہوں نے مسلم آبادیوں کو تنہاء کر دیا، شہر شہر جدا۔۔

اور اس بہانے کے ساتھ تم کچھ کرنے کے قابل نہ رہے کہ تم اپنے ملک میں رہو، کسی دوسرے کے کام سے کام نہ رکھو!

وہ نہیں چاہتے کہ آپ جانیں کہ یہ جنگ عقیدے اور وجود کی ہے!

مغربی اس جنگ میں صیہونیوں کی صف میں کھڑے ہیں

اور اس جنگ میں مسلم جوان فلسطینی صف میں کھڑے ہیں!

کتے غزہ پر چڑھ دوڑے ہیں!

حتی امریکی کتے بائیڈن نے بھی یہ کہہ دیا ہے کہ

اگر وہاں اسرائیل نہ ہوتا تو بھی ہم اسرائیل کو آباد کرتے اور اسے وجود میں لاتے!

اور اس نے تباہ کن اسلحے کے ٹرک بھیجے ہیں!

اور اس نے اسرائیل کی حمایت میں 2 ہزار فوجی بھیجنے کی منظوری بھی دی ہے!

مغربی ممالک نے بھی اسرائیل کی مدد کا اعلان کیا ہے

عسکری، سیاسی، اقتصادی و میڈیا کے میدانوں میں

حتی وہ بچوں، خواتین و مریضوں کے قتل عام پر بھی کوئی توجہ نہیں دیتے!

اور جو کچھ معمدانی ہسپتال میں ہوا اور اس کے بعد!

وہ بچوں، خواتین اور مریضوں کو ذرہ برابر اہمیت نہیں دیتے درحالیکہ

تل ابیب میں اجتماع کے لئے ان کے کتے جوق در جوق جمع ہو رہے ہیں!

یورپی حکومتیں جنگ کی حقیقت جان چکی اور تصادم کے لئے ہم پیمان ہو چکی ہیں!

یہ ہیں ان کی حکومتیں!

اور (اسرائیل کی حمایت میں) یہ ہے ان کے حکام کا عمل!

اور ہماری حکومت، ہمارے حکام، ہمارے رہنماؤں اور ہماری افواج نے اس معرکے کے لئے کیا کام انجام دیا ہے؟

ان میں سے شجاع ترین وہ ہے کہ جس نے اسرائیل کے خلاف بیان دیا اور تنقید کی ہے

کیا یہ دلیر

یہ دلیر صرف بیان ہی دیتا ہے؟

اور کہتا ہے کہ

ہم اس مسئلے پر بحث کے لئے (فلسطین) کانفرنس بلانے کی تیاری کر رہے ہیں؟

یہ کون سی کانفرنس ہے کہ جس کے بارے آپ بات کر رہے ہیں؟ ؟

ان کی کانفرنس کہ جنہوں نے غزہ میں مسلمانوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے؟

اور قبل ازیں شام میں۔۔؟

وہ صرف اپنے مفادات کی فکر میں ہیں!

اور عنقریب ان پر بھی وقت آئے گا

کہ جب شدید ضرورت کے وقت ان کے لئے کوئی حامی و مددگار نہ ہو گا!

رسول اللہ صلى اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے؛

کوئی بھی شخص ایسا نہیں کہ جو دوسرے مسلمان کو ایسی جگہ پر تنہاء چھوڑ دے کہ جہاں اس کی ناموس کو خطرہ ہو یا اس کی حرمت کی توہین کی جائے،

مگر یہ کہ اللہ تعالی اسے ایسے مقام پر تنہاء چھوڑ دیتا ہے کہ

جہاں اسے مدد حاصل کرنا پسند ہو!

اب جب تم بزدل ہو گئے ہو

اور غزہ میں موجود ہمارے بھائیوں کی مدد کرنے کے قابل نہیں رہے ہو!

تو کم از کم ان لوگوں کے لئے ہی رستہ کھول دو کہ جو وہاں جا کر مدد کرنا چاہتے ہیں!

اگر تم اپنی طاقت کھو بیٹھے ہو

اور اپنے مقام و منصب کے لئے پریشان ہو

تو ایسے جوان موجود ہیں کہ جنہوں نے اپنی ج

انیں ہتھیلیوں میں اٹھا رکھی ہیں۔۔

انہیں جانے دو۔۔!!

1 views

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے