چین ایران روابط

173090807

بقائی: ایران اور چین کے روابط بہت اچھے ہیں

ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان مختلف سطح پر روابط  برقرار ہیں اور ایران برکس اجلاس سمیت، آنے والے سبھی مواقع سے چین سمیت سبھی دوست ملکوں سے روابط کے فروغ میں استفادہ کرے گا۔

 ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے آج پیر 7 ستمبر کو اپنی ہفتے وار پریس کانفرنس میں مختلف موضوعات پر گفتگو کی اور صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیئے۔

 انھوں نے ارنا کے نامہ نگار کے ایک سوال کے جواب میں  کہا کہ شنگھائی سربراہی اجلاس بہت اہم تھا جس میں ہمارے ملک کے صدر نے بھی شرکت اور مختلف ملکوں کے سربراہوں، منجملہ تاجکستان، کرغیزستان، پاکستان، روس آذربائیجان اور دیگر ملکوں کے سربراہوں سے ملاقات کی۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایک مخصوص وقت میں انجام پانے والی اس طرح کی ملاقاتیں، مختصر ہوتی ہیں اور ایسے مواقع پر طولانی اور سبھی سربراہوں سے ملاقات  کا امکان نہیں ہوتا۔  

انھوں نے چین سے روابط کے بارے میں کہا کہ بیجنگ سے ہمارے روابط بہت اچھے ہیں اور مختلف سطح پر ہمارے درمیان روابط برقرار ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگلے سنیچر کو برکس اجلاس ہوگا، اس اجلاس میں بھی اسلامی جمہوریہ ایران سمیت سبھی رکن ممالک شریک ہوں گے بنابریں یہ اجلاس بھی مختلف ملکوں کے لیڈروں سے ملاقات اور گفتگو کا بہت اچھا موقع ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ برکس اور شنگھائی کے اکثر اراکین ایسے ہیں جو دونوں تنظیموں کے رکن ہیں۔ شنگھائی تنظیم کے اراکین، برکس کے بھی رکن ہیں۔

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یقینا اس اجلاس کے موقع پر بھی چین اور دیگر دوست ملکوں کے لیڈروں سے ہماری ملاقات ہوگی اور ہم اس موقع سے بھی باہمی روابط کے فروغ اور استحکام کے لئے استفادہ کریں گے۔

انھوں نے آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات سوفیصد دفاعی ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ 28 فروری کو امریکا اور صیہونی حکومت نے ہمارے خلاف فوجی جارحیت شروع کی اور اسی وقت سے آبنائے ہرمز اور خلیج فارس غیر محفوظ ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے اقدام کی وجہ سے نہیں، بلکہ امریکا اور صیہونی حکومت کے جارحانہ اقدامات کی وجہ سے یہ صورتحال آج تک جاری ہے۔  

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے کہ ہمارے علاقے اور بین الاقوامی سمندر میں، بحری جہازوں پر حملہ بھی امریکا نے ہی شروع کیا ہے۔

  انھوں نے کہا کہ حالیہ چند دنوں ميں جو کچھ ہوا، وہ امریکا کے جنگی بیڑوں کے سلسلے میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی تدابیر کے لحاظ سے فیصلہ کن تبدیلی ہے۔

انھوں نے تجارتی بحری جہازوں پر امریکی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ” تجارتی بحری جہازوں پر حملہ دہشت گردانہ اقدام اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ  یہ جو امریکی وزیر جنگ، اس اقدام پر فخر کررہے ہیں، وہ در اصل جنگی جرم کا اعتراف ہے جو تجارتی بحری جہازوں پر حملے کی شکل میں کیا  گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب تک یہ صورتحال، یعنی ایران کے خلاف اقتصادی جنگ اور سمندری محاصرہ، جاری ہے،اس کو فوجی جارحیت کا ہی تسلسل سمجھا جائے گا اور ایران کو اپنے دفاع کے لئے سبھی ضروری تدابیر اختیار کرنے کا حق حاصل رہے گا۔ بنابریں ایران کے سبھی اقدامات مکمل طور پر دفاعی ہیں جو امریکا اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کے جواب میں انجام دیئے جارہے ہیں۔      

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے