173085328

ایران کے دفاعی حملے صرف فوجی اہداف کے خلاف تھے: ترجمان وزارت خارجہ

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے برخلاف کہ جس نے شہری اہداف پر حملوں کو اپنی غیر قانونی جنگوں کا ایک مستقل حصہ بنا رکھا ہے، ایران کے دفاعی حملے صرف فوجی اہداف کے خلاف تھے اور قطر کی سرکاری رپورٹ بھی اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے۔

جمعرات کی شب اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر ایک پیغام میں قطر کی طرف سے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) میں رجسٹرڈ دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ” قطری حکومت نے انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کو جمع کرائی جانے والے اپنی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کی سرزمین پر تعینات امریکی افواج کے خلاف ایران کے دفاعی حملے خصوصی طور پر "امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے تھے۔ […] اور کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔”

بقائی نے مزید کہا کہ قطر کی رپورٹ میں صرف ایک مقام کے بارے میں دعویٰ کیا گيا ہے کہ 18 مارچ کو گیس کی ایک تنصیب پر حملہ کیا گيا تھا۔ لیکن اس معاملے میں بھی ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ تنصیبات اس وقت ایران کے خلاف امریکہ کی جارحانہ کارروائیوں کے لیے سہولت فراہم کر رہی تھی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ان حقائق کا امریکی حملوں کے ساتھ موازنہ کریں” یعنی ایران نے حملہ کرنے اور اہداف کے تعین میں کس حدتک درستگی اور احتیاط سے کام لیا جبکہ امریکہ نے بار بار عام شہریوں اور اہداف کو نشانہ بنایا ہے جس میں اسکول، ہسپتال، رہائشی علاقے، شادی کی تقریبات، پل اور دیگر شہری اہداف شامل ہیں۔

انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایک مہذب قوم اور جنگ پسند حمکرانوں کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے کہ مذہب قوم اخلاقی اور انسانی اصولوں پر عمل کی اہمیت کو جانتی ہے اور حتی مشکل حالات میں بھی ان سے روگردانی نہیں کرتی لیکن جنگ پسند حمکران طاقت کے گھمنڈ میں تمام قانونی اور اخلاقی ضابطوں کو پامال کردیتے ہیں۔   

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے