ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق سے منسوب حالیہ "بیان” سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا،حماس کی وضاحت

حماس-لوگو.jpg

اسلامی تحریک مزاحمت(حماس) نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق سے منسوب حالیہ میڈیا بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔ ان کا انٹرویو کئی روز قبل لیا گیا تھا، مگر نشر کئے گئے بیانات میں ان کے مکمل جوابات کو مسخ کرکے انہیں غلط انداز میں پیش کیا گیا،جس سے گفتگو کا اصل مفہوم متاثر ہوا۔ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے زور دیا کہ 7 اکتوبر کی مبارک کارروائی فلسطینی عوام کے حقِ مزاحمت کا ایک فطری اظہار تھا، جو غزہ پر مسلط محاصرے، صہیونی قبضے اور ناجائز بستیوں کے خلاف ایک لازمی ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ مجرم صہیونی قابض ہی اصل جارح ہے، جس نے غزہ میں ہمارے نہتے عوام کے خلاف وحشیانہ جنگی جرائم، نسل کشی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی ہے، جو پوری دنیا کے لیے باعثِ شرم اور مذمت کے لائق ہے۔تحریک حماس اپنے اصولی موقف کو دہراتی ہے کہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین سے صہیونی قبضے کے مکمل خاتمے تک ہر ممکن شکل میں حقِ مزاحمت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر ابو مرزوق نے کہا کہ مسلح مزاحمت ہی آزادی اور وطن واپسی کا بنیادی راستہ ہے، اور یہ کہ مقاومت کے ہتھیار ہماری قوم کی امانت ہیں، جو اپنی مقدسات اور سرزمین کے تحفظ کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔ جب تک فلسطین پر ناجائز قبضہ باقی ہے، مزاحمت اور اس کے وسائل پر کوئی سمجھوتہ یا دستبرداری ممکن نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے