خیبرپختونخوا کو ملنے والے 500 ارب روپے کہاں ہیں؟
ایک خبر کے مطابق خیبرپختونخوا کے حالات کے تناظر میں منعقدہ اجلاس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ سے صوبے کو انسداد دہشتگری کی مد میں دیے گئے 500ارب روپے کے بارے میں سوال پوچھا کہ وہ پیسہ کہاں اور کیسے خرچ ہوا تو دوران اجلاس ہی وزیراعلیٰ صاحب شدید غصہ ہوئے اور اجلاس چھوڑ کر باہر نکل گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف بھی موجود تھے۔ گورنر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور ان کے سیاسی حریف وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور میں سے کون زیادہ بہتر ہے؟ ہمارا موضوع یہ نہیں ہے لیکن جو سوال وزیراعلیٰ سے پوچھا گیا تھا وہ بہت اہم ہے۔
اس وقت حالات یہ ہیں کہ صوبہ انتظامی طور پر مکمل منجمد ہوچکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے افسران کے پاس اتنا بھی فنڈ نہیں ہوتا کہ وہ ایمرجنسی کام کروا سکیں تو 500ارب روپے اگر سسٹم میں موجود تھے تو اس کا استعمال کہاں ہوا؟ یا کہاں ہو رہا ہے؟ وزیراعلیٰ کے بارے میں خود اس کی جماعت کے اندرونی حلقے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ جماعت کے بجائے طاقتور حلقوں کے زیادہ وفادار ہیں تو کہیں اس وجہ سے وزیراعلیٰ صاحب کے لیے سب جائز تو نہیں ہوجاتا؟
صوبائی حکومت کے آنے کے ابتدائی دنوں میں ہی گندم کی خریداری میں مبینہ گھپلوں کی خبریں سامنے آئیں اور یہ محض سیاسی الزامات والی باتیں نہیں تھیں۔ اس کے بعد پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان تعلقات حد سے زیادہ خراب ہوئے مگر وفاقی حکومت سمیت طاقتور طبقوں نے صوبائی حکومت کی کمزوری کو ہدف بنانے کی کوشش نہیں کی کیوں؟ میرا مطلب صرف ہدف بنانے سے ہرگز نہیں ہے البتہ یہ خواہش ضرور ہے کہ بدترین حالات کا شکار صوبہ اٹھے یہاں کے لوگوں کی زندگیاں کچھ تو بہتر ہوں جس کے فی الوقت آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
یعنی اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ معاملہ نظام کی درستگی ہے ہی نہیں؟ بشریٰ بی بی کی پراسرار رہائی اور پھر وزیراعلیٰ ہاؤس میں آبادکاری کے بعد وزیراعلیٰ ہاؤس کی ملکیت 2حصوں میں تقسیم ہوگئی تھی اور صوبے کے انتظامی معاملات سے جیسے لاتعلقی کا غیر اعلانیہ اعلان کردیا گیا ہو سوائے اس کے کہ منافع بخش جگہوں پر کن لوگوں کو کن طریقوں سے لگایا جائے۔ مگر دوسری طرف صوبائی حکومت پر کوئی چیک رکھنے کی کوشش نہیں ہوئی جب تک کہ بشریٰ بی بی کو دیگر کیسیز میں سزا نہ دی گئی۔ یعنی پختونخوا کے حالات قابلِ اہمیت نہیں رہے؟
بلوچستان کے بعد پختونخوا بھی اوپر کی کمائی کا سنٹر بن چکا ہے لیکن پختونخوا کے لوگوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ صوبے میں ایک طرف بدامنی کی صورتحال کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں اور دوسری طرف حالات کی وجہ سے شدید بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ مجھے کہنے دیں کہ یہاں جنوبی اضلاع کے بازار سنسان بنتے جارہے ہیں اور کسی بھی عام دکاندار سے بات کریں تو وہ آپ کو یہ بتائے گا کہ کاروبار مکمل بیٹھ گیا ہے۔ ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان بنوں کے اکثر علاقوں میں بائیس گھنٹوں تک لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور پختونخوا میں بجلی کی طرح گیس کی پیداوار کے باوجود، گیس اکثر علاقوں میں نہیں ہے اور جن علاقوں میں ہے وہاں گیس کی لوڈ شیڈنگ معمول کا حصہ ہے۔
بجلی کے محکموں کے اہلکار ہی لوگوں کو بل نہ دینے کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور ایسی رکاوٹیں کھڑی کر دی جاتی ہیں کہ اگر کوئی صاف شفاف طریقے سے بل ادا کرنے کی کوشش بھی کریں تو وہ پیچھے ہٹ جانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ صوبے کی ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ یہاں کا ووٹر جذباتی بنیادوں پر ووٹ کاسٹ کرتا آرہا ہے جس کے مضر اثرات خود لوگوں کو برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ جبکہ پی ٹی آئی لیڈرشپ اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ حکومت سیاست اور ووٹ بس سوشل میڈیا ہی ہے اس لیے پختونخوا کی صوبائی حکومت کو صوبے کے کروڑوں عوام کے برعکس عمران خان کی رہائی کا مرکزی مورچہ بنادیا گیا ہے لیکن ان کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس وقت خیبرپختونخوا کے لوگ جس طرح کے حالات کا سامنا کررہے ہیں اس کی وجہ سے آپ کا سیاسی قلع آپ کے ہاتھ سے نکلنے والا ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا کی طرف سے دہشتگردی کی مد میں ملنے والے 500ارب روپے کے حوالے سے پوچھا گیا سوال انتہائی اہم ہے اور صوبائی حکومت کو اس سوال کا جواب دینا پڑے گا اور اگر یہ پیسہ صوبائی حکومت کو نہیں ملا تو کہاں گیا؟ یہ سوال تحریک انصاف کے مستقبل کی سیاست پر ایک بدنما داغ کی طرح پڑا رہے گا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک اس وقت صوبے میں سب سے پسماندہ علاقے مانے جاتے ہیں اور اگر وزیراعلیٰ صاحب نے بطورِ وزیراعلیٰ ان اضلاع کی پسماندگی دور کرنے کی کوشش نہیں کی تو ان کا ذاتی سیاسی کیریئر بھی نہیں بچ پائے گا۔
کیونکہ یہاں مولانا فضل الرحمان صاحب جیسا اہم رہنما بھی نووارد فیصل کریم کنڈی کے ہاتھوں بھاری مارجن سے شکست سے دوچار ہو گیا تھا اور اس کی وجہ مولانا صاحب کی طرف سے علاقے کے لیے کچھ نہ کرنا ہے۔ بہرحال اس وقت خیبرپختونخوا حقیقت میں موہنجوڈارو بن چکا ہے اور صوبے کی حالت کی بہتری کے لیے بس دعا ہی کی جا سکتی ہے۔