بلوچستان، انتظامیہ افسران کو "جسٹس آف پیس” مقرر کرنیکا اعلامیہ معطل

n01257712-b.jpg

عدالت عالیہ بلوچستان نے محکمہ داخلہ کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کے افسران کو "فیس آف جسٹس” مقرر کرنے کے اعلامیہ کو معطل کر دیا۔ چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس گل حسن ترین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے یہ حکم آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کے دوران جاری کیا۔ درخواستیں ایڈووکیٹس راحب خان بلیدی، افتخار احمد لانگو اور عبدالبصیر کاکر کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے 30 دسمبر 2025 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے انتظامی افسران کو "جسٹس آف پیس” مقرر کیا، مگر اس فیصلے سے قبل صوبے کے چیف جسٹس سے مشاورت نہیں کی گئی، جو آئین کی دفعات 175(3)، 202 اور 203 کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیشن ججز پہلے ہی بطور ایکس آفیشیو جسٹس آف پیس خدمات انجام دے رہے ہیں، اور انتظامیہ کو عدالتی اختیارات دینا ایک متوازی عدالتی نظام قائم کرنے کے مترادف ہے۔ عدالت نے درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے اور حکم دیا کہ اگلی سماعت تک نوٹیفکیشن پر عملدرآمد معطل رہے۔ عدالت نے حکم نامے کی نقول ایڈووکیٹ جنرل کے دفتر بھیجنے کی بھی ہدایت کی۔ واضح رہے کہ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری اعلامیہ میں ضلعی انتظامیہ کے افسران کو "جسٹس آف پیس” مقرر کرتے ہوئے اختیارات دیئے گئے تھے، جسے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ حکومت کا ہے، جس پر عملدرآمد کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے