اقوامِ متحدہ کی نئی رپورٹ میں اسرائیل کے منظم جرائم کی سنگین تفصیلات بے نقاب
اقوامِ متحدہ کی نئی رپورٹ میں اسرائیل کے منظم جرائم کی سنگین تفصیلات بے نقاب
🔹 اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ شکنجہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے:
"اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف منظم اور وسیع سطح پر شکنجہ دینے کی ایک عملی سرکاری پالیسی اپنا رکھی ہے، اور اس کے اہلکار جنگی جرائم پر مکمل طور پر تحفظ رکھتے ہیں۔”
🔹 رپورٹ میں گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ فلسطینیوں پر مسلسل شدید مارپیٹ، کتوں سے حملے کرانا، برقی جھٹکے دینا، مصنوعی ڈبونے جیسی اذیتیں، طویل مدت تک تکلیف دہ پوزیشن میں بٹھانا، اور جنسی تشدد جیسے مظالم کیے جا رہے ہیں۔
🔹 رپورٹ کے مطابق فلسطینی قیدیوں کو جانوروں جیسا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، ان پر پیشاب کیا جاتا ہے، انہیں باقاعدہ طبی دیکھ بھال سے محروم رکھا جاتا ہے، اور ضرورت سے زیادہ ہتھکڑیاں اور بیڑیاں پہنائی جاتی ہیں۔
🔹 دو سالہ مدت کا یہ نیا جائزہ، جو 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی غزہ جنگ کے دوران ہونے والی صورتحال پر مشتمل ہے، یہ بھی بتاتا ہے کہ بڑی تعداد میں فلسطینی بچے گرفتار کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اسرائیل کی جانب سے مجرمانہ ذمہ داری کی عمر 12 سال مقرر ہے، لیکن اس سے کم عمر بچوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
