کینیڈا مذہبی پابندیوں میں اضافہ کر رہا ہے

IMG_20251129_161850_379.jpg

کینیڈا مذہبی پابندیوں میں اضافہ کر رہا ہے

🔹 کینیڈا کے صوبہ کیوبیک نے ایک نئے بل کی بنیاد پر عوامی مقامات پر مذہبی علامات کے اظہار اور نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ اقدام مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی ہے اور مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بناتا ہے۔

🔹 یہ بل، جسے جمعرات کے روز حکمران اتحاد "ائتلافِ آیندهٔ کبک” کی جانب سے بل نمبر 9 کے طور پر پیش کیا گیا، سرکاری اداروں — جن میں کالج اور یونیورسٹیاں شامل ہیں — میں نماز ادا کرنے پر پابندی لگاتا ہے۔ اس قانون میں سڑکوں اور پارکوں میں نمازِ جماعت پر بھی پابندی شامل ہے، اور خلاف ورزی کرنے والے گروہوں پر 1125 ڈالر جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔

🔹 کیوبیک کی حکمران جماعت نے سیکولرازم کو قانون سازی میں اپنی بنیادی ترجیح قرار دیا ہے۔ اس اتحاد نے اس سے قبل 2019 میں متنازع بل نمبر 21 منظور کیا تھا، جس کے تحت سرکاری ملازمین پر مذہبی علامات پہننے کی پابندی عائد کی گئی تھی۔

🔹 اب حکومت اس پابندی کو نرسریوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور نجی اسکولوں تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے اور ان اداروں میں کام کرنے والے ہر شخص کے لیے چہرے کا مکمل نقاب پہننے پر پابندی لگانا چاہتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے