نہ تھمنے والا طوفان
اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے چیف آف سٹاف ایال ضمیر نے اتوار 23 نومبر 2025 کو ایک سرکاری بیان میں اعلان کیا کہ انہوں نے حکومت کے 12 سینئر کمانڈروں کو یقینی طور پر برطرف کر دیا ہے جن میں آہارون ہالیوا (ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ)، یارون فنکلمین (جنوبی زون کے سابق فوجی کمانڈر)، اودی باسیوق (سابق ملٹری آپریشنز کمانڈر)، آوی روزن فیلڈ (غزہ ریزرو ڈویژن کے کمانڈر) اور یونٹ 8200 اور غزہ ڈویژن کے کئی دیگر سینئر افسران شامل ہیں۔ ایال ضمیر نے اس اقدام کو "کمانڈ احتساب کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے ایک تکلیف دہ لیکن ضروری فیصلے” کے طور پر بیان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ فوج کی دو سالہ تحقیقات نے ان افراد کو فلسطینی آپریشن طوفان الاقصیٰ (7 اکتوبر 2023) کے دوران شہریوں کی حفاظت میں "شدید، وسیع اور منظم ناکامیوں” کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ یہ آئی ڈی ایف کی جدید تاریخ میں سینئر کمانڈروں کی سزا کی سب سے بڑی لہر ہے اور یہ استعفوں اور برطرفیوں کی پچھلی لہروں کے بعد ہے۔
ایک سیکورٹی ڈاکٹرائن کا مکمل خاتمہ
صیہونی فوج کی اندرونی رپورٹس اور معتبر بین الاقوامی میڈیا ذرائع کی شائع کردہ دستاویزات کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کی ناکامی، فوجی اور سیاسی فیصلہ سازی کی تمام سطحوں پر سیٹ اپ میں خرابیوں کے جمع ہونے کا نتیجہ تھی۔ 2018 سے 2023 کے موسم گرما تک کم از کم پانچ دستاویزات ہائی کمان کی سطح کو بھیجی گئیں جن میں غزہ کی پٹی سے ملحقہ بستیوں پر حماس کی طرف سے بڑے پیمانے پر زمینی، فضائی اور سمندری حملے کے امکان کے بارے میں انتباہ کیا گیا۔ 2018 میں مشہور "والز آف جیریکو” دستاویز، 2023 میں حماس کی غیر معمولی مشقوں کے بارے میں یونٹ 8200 کی رپورٹ، سرنگ کی کھدائی اور رات کے وقت مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں سرحدی مبصرین کی بار بار وارننگ، اور یہاں تک کہ ناحال عوز اسٹیشن کی ایک خاتون افسر کی تفصیلی رپورٹس جو موسم گرما 2023 میں بھیجی گئیں اور ان میں کہا گیا تھا کہ "حماس بالکل ایسے ہی مشق کر رہی ہے جس طرح اس نے حملہ کرنا ہے”، سبھی "کم امکان”، "خیالی منظر نامے” یا "شو ڈرل” کے لیبلز کے ساتھ نظرانداز کر دی گئیں۔
اس سنگین غلطی کی تین بڑی وجوہات
سب سے پہلے، تکنیکی برتری پر اندھا اعتماد اور اسلامی مزاحمت کے ارادے اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کی صلاحیت کے بارے غلط فہمی،
دوسرا، اسرائیلی انٹیلی جنس اور سیکورٹی اداروں کا اپنی توجہ حد سے زیادہ ایران اور حزب اللہ لبنان پر مرکوز کر دینا اور حماس اور اسلامک جہاد کی آپریشنل صلاحیتوں کو کم سمجھنا،
تیسرا، ایسی تنظیمی ثقافت جس میں مشینوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے سامنے انسانی انتباہات کو بیکار سمجھا جاتا ہے۔
مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں پر نصب کئی بلین ڈالر کا سرحدی نگرانی کا نظام، تھرمل کیمرے، سیسمک سینسرز، جدید ڈرونز اور مصنوعی ذہانت کے الگورتھم جو "غزہ پر آسمان میں ہر پرندے کو ٹریک کرنے کے لیے” تھے، سادہ قسم کے ہتھیاروں جیسے انجن والے پیراگلائیڈرز، گھریلو ساختہ گرنیڈز، 200 ڈالر مالیت کے کمرشل ڈرون اور عام بلڈوزرز کے مقابلے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے۔ حملے کے ابتدائی گھنٹوں میں، 1500 سے زائد مجاہدین ریپڈ ری ایکشن فورسز کی جانب سے موثر مزاحمت کے بغیر ہی تیزی سے مقبوضہ فلسطین میں 25 کلومیٹر اندر تک گھسنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے 22 بستیوں اور 11 فوجی اڈوں پر قبضہ کیا اور 251 افراد کو قیدی بنا لیا۔ یہ ناکامی نہ صرف ایک حکمت عملی کی غلطی تھی بلکہ اس سیکورٹی ڈاکٹرائن کا بھی مکمل خاتمہ تھا جس پر غاصب صیہونی رژیم نے کئی دہائیوں سے سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔
سیاستدانوں کو بچانے کے لیے فوج کی قربانی
پچھلے دو سالوں کے دوران 25 سے زیادہ سینئر آئی ڈی ایف کمانڈرز یا تو مستعفی ہو چکے ہیں یا انہیں اپنے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ہرزی ہیلیوی (سابق چیف آف اسٹاف)، آہارون ہالیوا، یارون فنکل مین، اودی باسیوق، ڈیوڈ زینی (سابقہ کمانڈر بری فوج)، آوی روزن فیلڈ، اور ڈویژن اور علاقائی سطح پر درجنوں دیگر افسران اس لہر کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود سیکیورٹی کابینہ کے کسی ایک رکن یا اہم سیکیورٹی پالیسی ترتیب دینے والے سیاسی عہدیدار کو ایک بھی انکوائری کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔ بینجمن نیتن یاہو، جو 2009 سے مسلسل یا وقفے وقفے سے اقتدار میں ہے، "تنازعات کے حل” کے بجائے "تنازعات کے انتظام” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے غزہ کی پٹی میں دسیوں ملین ڈالر کی قطری امداد کی باقاعدہ منتقلی کی براہ راست اجازت جس کا مقصد خطے میں جمود کو برقرار رکھنا ہے، غزہ کو براہ راست دھمکی دینے کے بجائے انٹیلی جنس اور عسکری وسائل کا ایران حزب اللہ بلاک پر ارتکاز، جان بوجھ کر شین بت اور آمان کی وارننگز سے چشم پوشی اور حتی حملے کی رات ابتدائی انٹیلی جنس رپورٹس پر فوری رد عمل ظاہر نہ کرنا، وہ تمام فیصلے تھے جو براہ راست نیتن یاہو کے دفتر سے لیے گئے تھے۔
اسٹریٹجک آفٹر شاکس، ایسی رژیم جو ابھی تک صدمے میں ہے
طوفان الاقصیٰ آپریشن کے دو سال بعد بھی اس کے اثرات نے غاصب صیہونی رژیم کے سیکورٹی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی ڈھانچے کو تزلزل کا شکار کر رکھا ہے۔ فوج پر عوام کے اعتماد میں شدید کمی، افسران کے بڑے پیمانے پر استعفے (صرف نومبر 2025 میں 600 سے زائد درخواستیں)، جنگی یونٹس میں سروس انجام دینے کی خواہش میں 40 فیصد کمی، سیرت متکل اور شیلداگ جیسی ایلیٹ یونٹس میں بھرتی کی شرح میں کمی، 2025 میں مقبوضہ فلسطین سے نقل مکانی کرنے کی شرح میں 70 فیصد اضافہ اور "یم بحر” کے رجحان (یہودیوں کی بیرون ملک ہجرت) میں نمایاں اضافہ ایک گہرے اور طویل مدتی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ غزہ کی جنگ جو "حماس کی مکمل نابودی” اور "تمام قیدیوں کی آزادی” کے نعرے سے شروع ہوئی دو سال گزرنے کے بعد بھی اپنے کسی ہدف کو حاصل کرنے میں نہ صرف ناکام رہی ہے بلکہ اسرائیلی فوج کے لیے اسٹریٹجک دلدل بھی بن چکی ہے۔ لبنان کے ساتھ شمالی محاذ کی توسیع، یمنی اور عراقی محاذوں کا فعال ہونا، اور یہاں تک کہ اردن سے محدود حملے، سرحدی شہروں میں سیکورٹی بحال کرنے میں ناکامی اور جنگ کے حیران کن اخراجات (نومبر 2025 تک 300 بلین شیکل سے زیادہ) نے حکومت کو ایک ایسی غیر معمولی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جس کی مثال نہیں ملتی اور تجزیہ کار اسے "1948 کے بعد بدترین صورتحال” قرار دے رہے ہیں۔ 12 سینئر کمانڈروں کی حالیہ برطرفی کسی باب کا خاتمہ نہیں بلکہ ساختی نااہلی کو تسلیم کرنے کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ یہ اقدام اگرچہ بظاہر فوج کی ساکھ بحال کرنے کی کوشش ہے لیکن درحقیقت اس دھچکے کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے جو فلسطینی مزاحمتی قوتوں نے 7 اکتوبر 2023 کو لگایا تھا۔ ایک ایسا دھچکا جسے اربوں ڈالر کی امریکی فوجی امداد، جدید ترین ہتھیاروں، آئرن ڈوم اور بین الاقوامی لابیوں سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔
