ایران نے جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا امکان مسترد کردیا

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں تیل کمپنی کے سربراہ بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی کو بحال کرنے کے بعد عائد کی جانے والی یہ تازہ ترین پابندیاں ہیں۔منگل کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ’جب تک اس طرح زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جاتا رہے گا ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مسئلے پر براہ راست بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے‘۔انہوں نے کہا کہ جوہری مذاکرات کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بالکل واضح ہے، ہم دباؤ، دھمکی یا پابندیوں کی موجودگی میں مذاکرات نہیں کریں گے۔
سرگئی لاروف وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے سمیت مختلف موضوعات پر بات چیت کے لیے تہران پہنچے تھے۔2021 میں ختم ہونے والی ٹرمپ کی پہلی مدت کے دوران واشنگٹن نے پابندیوں کے خاتمے کے لیے متعدد ممالک کے درمیان تاریخی جوہری معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی تھی، پیر کے روز ایران نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے ساتھ اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں بات چیت کا ایک نیا دور منعقد کیا تھا۔وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ انہوں نے روسی ہم منصب کو تازہ ترین بات چیت کے بارے میں آگاہ کیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ جوہری مسئلے پر ہم روس اور چین میں اپنے دوستوں کے تعاون اور ہم آہنگی سے آگے بڑھیں گے۔
جنوری میں ماسکو کے دورے کے دوران ایرانی صدر مسعود پیشکیان نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک تزویراتی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، ایران اور روس دونوں کو دسمبر میں شام میں ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب باغیوں نے ان کے دیرینہ اتحادی بشار الاسد کا تختہ الٹ دیا کیونکہ دونوں حکومتوں نے ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری خانہ جنگی میں بشار الاسد کی حمایت کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ شام کے بارے میں ایران اور روس کا موقف ’بہت قریبی‘ ہے، انہوں نے کہا کہ ایران امن، استحکام، علاقائی سالمیت اور اتحاد کے تحفظ اور عوام کی خواہشات کی بنیاد پر شام کی ترقی کا خواہاں ہے۔سرگئی لاوروف نے کہا کہ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے کہ حالات پرسکون ہوں اور شامی عوام یا ہمسایہ ریاستوں کے لوگوں کے لیے کوئی خطرہ نہ بنیں۔