ریاض سمٹ میں بشار الاسد کی "للکار” اور شام میں باغیوں کی پھر سے یلغار

دمشق ـ- شام کے شمال مغربی شہر حلب میں ترکی کے حمایت یافتہ باغیوں نے پھر سے خانہ جنگی چھیڑ دی شامی مسلح افواج کی جانب سے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دہشتگرد گروہوں نے النصرہ فرنٹ کے جھنڈے تلے، تناو میں کمی کے معاہدے کی صریح چلاف ورزی کرتے ہوئے 27 نومبر 2024 کو، علاقائی اور بین الاقوامی حامیوں کی حمایت سے جلب اور ادلب کے مضافات میں ایک وسیع محاذ پر دیہاتوں اور قصبوں اور فوجی پوزیشنوں پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔
اس بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح افواج نے اس دہشت گردانہ حملے کا مقابلہ کیا اور جھڑپ جاری ہے جس میں دہشت گرد گروہوں کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ شامی فوج معاون فورسسز کے تعاون سے ان کا مقابلہ کر رہی ہیں تاکہ حالات کو معمول پر لوٹا سکیں۔ذرائع نے بتایا ہے کہ شامی فوج نے مغربی حلب میں تقاد، الابزمو، کفرعمہ، کفر تعال اور تدیل کے نواحی علاقوں کے علاوہ النصرہ فرنٹ کے دہشت گردوں کی امدادی لائنوں پر بھی گولہ باری کی۔ الاتارب اور دار عزہ کے مضافات میں متعدد دہشت گردوں کو ہلاک اور دیگر کو زخمی کیا۔
شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ نے تصدیق کی ہے کہ حلب کے دیہی علاقے میں شامی فوج کی تحریر الشام تنظیم اور دیگر مسلح گروپوں کے ساتھ شدید لڑائی ہوئی، لڑائی میں جانبین کے تقریباً 97 ارکان مارے گئے۔تحریر الشام تنظیم نے بدھ کے روز حلب کے دیہی علاقے میں کارروائی کا آغاز کیا تھا، اس کے نتیجے میں تنظیم کے 44 اور دیگر اتحادی گروپوں کے 16 افراد مارے گئے، رصد گاہ نے واضح کیا کہ اس کارروائی کے دوران لڑائی میں شامی فوج کے 37 ارکان مارے گئے جن میں مختلف منصوبوں کے 4 افسران شامل ہیں۔رصد گاہ کے مطابق تحریر الشام تنظیم اور اس کے دیگر اتحادی گروپوں نے حلب کے مغرب میں دیہی علاقے میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے، یہاں وہ کارروائی کے آغاز کے بعد 12 گھنٹے سے بھی کم وقت میں 21 دیہات کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، یہ کامیابی شامی فوج کے ساتھ شدید لڑائی اور جھڑپوں کے بعد سامنے آئی۔
یاد رہے کہ یہ مارچ 2020 میں روس اور ترکی کے شام میں فائر بندی پر متفق ہونے کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی پیش قدمی ہے۔ شام میں جنگ کی صورتحال پر نظر رکھنی والی مبصر تنظیم سیرین آبزیروٹری کا کہنا ہے کہ شامی باغیوں نے حلب کے پانچ اضلاع کا کنٹرول حاصل کرلیا ہے جبکہ شامی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ترک حمایت یافتہ جنگجوئوں کا بڑا حملہ پسپا کرتے ہوئے ان کے قبضہ کئے گئے علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ ترکیہ نے شام میں باغیوں کے علاقے ادلب پر "حملوں” کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جہاں شامی اور روسی لڑاکا طیاروں نے مبینہ طور پر فضائی حملے کئے ہیں۔ ترک وزارت خارجہ نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ ہم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان حملوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں خطے میں ناپسندیدہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
نمائندہ بصیر میڈیا کے مطابق شام میں پھر سے خانہ جنگی کی بنیادی وجہ ریاض سمٹ میں شامی صدر بشار الاسد کے خطاب کو سمجھا جا رہا ہے یاد رہے کہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف رواں مہینے ریاض میں اسلامی ممالک کا اجتماع ہوا تھا جس میں شامی صدر بشار الاسد نے عرب حکمرانوں کو اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات اٹھانے اور اسرائیل کے معاشی بائیکاٹ کے حوالے سے جارحانہ پالسی اپنانے پر زور دیا تھا یہی وجہ ہے کہ ترکی اور امریکہ کے حمایت یافتہ باغی گروہوں نے پھر سے خانہ جنگی چھیڑ دی ہے