ریاض فیسٹیول: عریانیت، فحاشی اور بے حسی کے سبب تنقید

ریاض : ریاض سیزن فیسٹیول سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 پلان کا ایک اہم حصہ ہے۔ فیسٹیول کا آغاز 2019 میں ہوا تھا اور اس کا مقصد سیاحت اور تفریح کے ذریعے سعودی عرب کی معیشت کو متنوع بنانا ہے۔ 12 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والے اس فیسٹیول میں کئی عالمی ستارے اور کئی ممالک کے ثقافتی پروگرام شامل ہیں۔ اس سال یہ میلہ مارچ 2025 تک جاری رہے گا، جس میں لاکھوں لوگ شرکت کر رہے ہیں۔ یہ میلہ ریاض کے مختلف مقامات پر منعقد کیا جا رہا ہے، جن میں تھیم پارکس، ریستوراں، ثقافتی شوز اور فیشن ایونٹس شامل ہیں۔
ریاض سیزن فیسٹیول کے حوالے سے سوشل میڈیا اور دیگر فورمز پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ تنقید کی دو بنیادی وجوہات ہیں جو درج ذیل ہیں۔ غزہ اور لبنان کے تنازعات کے درمیان اس عظیم الشان تقریب کو حساسیت کی کمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ فیسٹیول ان علاقوں میں جاری انسانی بحرانوں کے تئیں بے حسی ظاہر کرتا ہے۔ بین الاقوامی فیشن شوز اور مشہور شخصیات کے لباس، خاص طور پر جینیفر لوپیز اور کیملا کابیلو نے سعودی ثقافت پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اسے اسلامی اور سعودی روایات کے خلاف قرار دیا گیا ہے۔ غزہ میں جاری تنازعہ اور لبنان کی کشیدہ صورتحال کے درمیان ریاض سیزن جیسے عظیم الشان واقعات کو غیر حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے اسے شرمناک اور غیر اخلاقی قرار دیا ہے۔ اس سال کے سب سے زیادہ چرچے ہونے والے واقعات میں سے ایک لبنانی ڈیزائنر ایلی ساب کا فیشن شو 1001 سیزنز آف ایلی صاب تھا۔ اس شو میں عرب ورثے اور جدید ڈیزائن کا امتزاج پیش کیا گیا، لیکن اس سے تنازعہ بھی پیدا ہوا۔
شو میں پیش کیے گئے ڈیزائن اور کپڑے بہت سے مذہبی اور ثقافتی گروہوں کے لیے ناگوار پائے گئے۔ جینیفر لوپیز اور دیگر فنکاروں کی اسٹیج پرفارمنس نے بھی تنازع کھڑا کردیا۔ لوپیز کے لباس اور پریزنٹیشن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر لوگوں نے اسے سعودی تہذیب کے خلاف قرار دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جیسے کہ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر، صارفین نے غزہ جنگ کے حوالے سے سخت بیانات دیےایک صارف نے لکھا کہ اللہ ہمیں معاف کرے، یہ تہوار ہماری ثقافت اور مذہب کے خلاف ہے۔ ریاض سیزن فیسٹیول نے سعودی عرب کو سیاحت اور تفریح کے عالمی نقشے پر ڈال دیا ہے۔ 2022 میں، تقریباً 2 کروڑ لوگوں نے اس تہوار میں شرکت کی، جس سے معیشت کو بڑا سہارا ملا۔