کوپن ہیگن: اسرائیلی سفارت خانے کے باہر دو دھماکے، پولیس تحقیقات جاری

ڈنمارک کی پولیس نے بدھ کو کہا کہ وہ کوپن ہیگن کے شمالی مضافات میں اسرائیل کے سفارت خانے کے قریب دو دھماکوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کوپن ہیگن پولیس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر کہا ہے کہ ’کوئی بھی زخمی نہیں ہوا ہے اور ہم جائے وقوعہ پر ابتدائی تحقیقات کر رہے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بھی ڈنمارک میں اسرائیل کے سفارت خانے کے باہر دو دھماکوں کی خبر دی ہے۔
کوپن ہیگن پولیس کے مطابق ’علاقے میں واقع اسرائیلی سفارت خانے کے ساتھ ممکنہ تعلق کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔مقامی میڈیا میں بڑی تعداد میں پولیس موجودگی اور وسیع علاقے کو گھیرے میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ٹیبلوئڈ بی ٹی کی رپورٹ کے مطابق تحقیقات کاروں کو شواہد کے لیے موقع کا معائنہ کرتے ہوئے مکمل لباس میں دیکھا گیا۔جب روئٹرز نے رابطہ کیا تو اسرائیلی سفارت خانے سے فوری طور پر تبصرے کے لیے کو دستیاب نہیں تھا۔پولیس نے کہا کہ وہ تحقیقات کے بارے میں جی ایم ٹی ٹائم کے مطابق صبح 5:30 بجے تازہ معلومات فراہم کریں گے۔
دوسری جانب عراق میں امریکی سفیر الینا رومنوسکی نے اعلان کیا کہ بغداد میں ڈپلومیٹک سپورٹ کمپلیکس پر کل یعنی منگل کو ’حملہ‘ کیا گیا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔رومانووسکی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’گذشتہ رات بغداد میں ڈپلومیٹک سپورٹ کمپلیکس پر حملہ کیا گیا، جو کہ ایک امریکی سفارتی مرکز ہے۔انہوں نے مزید لکھا کہ ’خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکہ نے 2014 میں داعش سے لڑنے کے لیے قائم کیے گئے اتحاد کے ایک حصے کے طور پر عراق میں تقریباً 2500 فوجی اور پڑوسی ملک شام میں 900 فوجی تعینات کیے ہیں۔اس اتحاد میں دیگر ممالک بالخصوص فرانس اور برطانیہ کی افواج بھی شامل ہیں۔